اکیسویں صدی میں مذہب اور اس کی معنویت…ایف اے مجیب

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 4, 2026360 Views


اکیسویں صدی کو طویل عرصے تک سائنسی ترقی، ڈیجیٹل انقلاب اور تیزی سے بڑھتے ہوئے سیکولر رجحانات کا زمانہ قرار دیا جاتا رہا۔ یہ دعویٰ بھی بڑے اعتماد کے ساتھ کیا گیا کہ جدیدیت کے ساتھ مذہب انسانی زندگی سے غیر متعلق ہو جائے گا۔ مگر عالمی حقائق اور مستند اعداد و شمار اس مفروضے کو درست ثابت نہیں کرتے۔ آج بھی مذہب انسانی معاشروں میں ایک طاقتور فکری، اخلاقی اور سماجی قوت کے طور پر موجود ہے اور بعض حوالوں سے اس کی اہمیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 2020 میں عالمی آبادی تقریباً 7.8 ارب تھی، جو 2026 تک بڑھ کر 8.1 تا 8.3 ارب کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس آبادی کا بڑا حصہ آج بھی کسی نہ کسی مذہبی شناخت سے وابستہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی تقریباً 84 تا 85 فیصد آبادی مذہب سے جڑی ہوئی ہے، جب کہ 15 تا 16 فیصد افراد خود کو غیر مذہبی یا غیر وابستہ قرار دیتے ہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...