
یہی سوال پھر سامنے آتا ہے—اگر ہندو صرف ہندو کی بات کرے اور مسلمان صرف مسلمان کی، تو ہندوستان کی بات کون کرے گا؟ یہی تقسیم آر ایس ایس کی خواہش ہے۔ بیس فیصد مسلمان ووٹ اگر متحد بھی ہو جائیں تو اسی فیصد اکثریت کے سامنے ان کا وزن سیاسی طور پر کم ہی رہے گا۔ نوے کی دہائی میں ایودھیا تحریک کے ذریعے اسی فارمولے کو سیاست میں داخل کیا گیا اور اب یہ زہریلا درخت تناور ہو چکا ہے۔ مجلس کی مضبوطی آر ایس ایس کے راستے کو ہموار کرتی ہے، کیونکہ وہی تقسیم اور پولرائزیشن آر ایس ایس کا سیاسی ایندھن ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ امیدوار کھلے عام کہتے ہیں کہ انہیں مسلم ووٹوں کی ضرورت نہیں۔
جناح اور ساورکر دونوں انگریزوں کے آلہ کار تھے۔ ایک طرف مسلم لیگ مذہبی نعروں کے ذریعے فضا کو مسموم کر رہی تھی اور دوسری طرف آر ایس ایس کے بانی جرمنی سے نسلی نفرت کا سبق سیکھ کر آئے تھے۔ دونوں نے ملک کو تقسیم کے دہانے تک پہنچایا، مگر آج آر ایس ایس کانگریس اور مسلمانوں پر الزام ڈالتی ہے، جبکہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ اس نے کبھی تقسیم روکنے کی کوشش کی ہو۔
تقسیم کے بعد ہندوستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں نے اٹھایا۔ آج اگر اقلیتی سیاست اسی راہ پر چلتی رہی تو یہ خود کشی کے مترادف ہوگا۔ اکثریتی فرقہ پرستی فسطائیت ہے اور اقلیتی فرقہ پرستی اس کی طاقت۔ دونوں کا انجام ملک کے لئے زہر ہلاہل ہے۔






