
راجپوت نے کہا کہ اس بجٹ کی نہ کوئی سمت ہے، نہ کوئی واضح پالیسی اور نہ ہی کوئی سیکورٹی کا معیار نظرآتا ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اپنی پوری زندگی میں انہوں نے ایسا بجٹ نہیں دیکھا۔ انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ اس بجٹ میں کسان، نوجوان، خواتین یا قبائلی برادریوں کے لیے کیا ہے؟۔ ان کے مطابق بجٹ میں سماج کے کسی طبقے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی یا راحت نہیں ہے۔ سریندر راجپوت نے دعویٰ کیا کہ عام آدمی کی ضروریات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔






