اپنی طرز کا اکیلا شاعر

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 28, 2025382 Views


مضطر نے الیہیات اور عرفانیات جیسے دقیق موضوعات پر بھی اشعار نظم کئے۔

تری ذات واحد ہے بیدار مطلق تجھے تو کبھی نیند آتی نہیں ہے

تری آنکھ لگنے کی حسرت میں یارب کہاں تک میں قصے کہانی کہونگا

۔۔

بزم ہستی میں بڑے صاحب اسرار ہیں ہم

راز وحدت کی شہادت کو نمودار ہیں ہم

۔۔۔

تیری رنگت بہار سے نکلی

پھوٹ کر لالہ زار سے نکلی

۔۔

دل جو دھویا تو تو نظر آیا

کیا ہی صورت غبار سے نکلی۔

مضطر کے یہاں عامیانہ قسم کے اشعار بھی ملتے ہیں۔

وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں

آجکل گرمیاں جاڑوں میں

۔۔۔۔۔

زلف کو کیوں جکڑ کے باندھا ہے

اس نے بوسہ لیا تھا گال کا کیا

۔۔

دل اپنا بیچتا ہوں واجبی دام اس کے دو بوسے

جو قیمت دو تو لو، قیمت نہ دی جائے تو رہنے دو

۔۔۔۔۔۔۔

مضطر خیر آبادی 20؍ مارچ 1928ء کو گوالیار میں انتقال کرگئے لیکن اپنے کلام کا ایسا بیش بہا خزانہ چھوڑ گئے ہیں جسکی نظیر اردو شاعری میں ملنا محال ہے۔ انکے کچھ اشعار تو بے حد مقبول ہیں۔

مقبول اشعار

۔۔۔۔

وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں

اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

۔۔

“کِسی کے دردِ مُحبت نے عُمر بھر کے لیے

خُدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مُجھے “

۔۔۔

لحد کی سختیاں میت کا استقبال کرتی ہیں۔

جگہ دینے مقام گور سے پتھر نکلتے ہیں۔

۔۔

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

۔۔۔

مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت

کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

۔۔۔۔

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

۔۔۔

مدہوش ہی رہا میں جہان خراب میں

گوندھی گئی تھی کیا مری مٹی شراب میں

۔۔۔

تو نہ آئے گا تو ہو جائیں گی خوشیاں سب خاک

عید کا چاند بھی خالی کا مہینہ ہوگا

۔۔۔

جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے

تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...