
اس مشاعرہ کا آغاز قاسم شمسی کی نعت پاک سے ہوا۔ اس کے بعد حب الوطنی پر مبنی گیت شرف نانپاروی نے پیش کیا۔ جن شعرا نے اپنے کلام سے نوازا ان کے منتخب اشعار قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔
یہ کس نے کہہ دیا ہم آندھیوں سے ڈرتے ہیں
ہمیں تو ہیں جو ہواؤں کے پر کترتے ہیں
سیف سحری
کہیں تباہ کیا اور کہیں نہال کیا
ذرا سی جنبش لب نے بڑا کمال کیا
آفتاب آذر
گماں ہے مجھ کو پتہ سب کو چل گیا ہوگا
کسی کا نام زباں سے پھسل گیا ہوگا
شعیب رضا فاطمی
ابھی تو چاک پہ جاری ہے رقص مٹی کا
ابھی کمہار کی نیت بدل بھی سکتی ہے
علینہ عترت
وطن سب کا ہے یہ سب کا وطن ہے
برابر جھوٹ بولا جا رہا ہے
امیر امروہوی
خدا ہی جانے میسر ہو اس کا کب جلوہ
زباں پہ اس کی ابھی تک تو ’لن ترانی‘ ہے
قاسم شمسی
بغض، کینہ اور حسد کو چھوڑ کر روزہ رکھو
نفس کر لو پاک یہ موقع ملا رمضان میں
انجم جعفری
کبھی کبھی تری آنکھوں سے خود کو دیکھا ہے
کبھی کبھی تری تصویر آئینہ سی ہے
شرف نانپاروی
بکھری راتیں، کچی نیندیں، دور تلک بس خاموشی
تھوڑی دیر کو آنکھ میں آ کر خواب مکمل کر دو نا
صبا عزیز
میرے کولہے میں درد جاری ہے
جب سے بیگم نے لات ماری ہے
شاہد گڑبڑ






