حکومت نے مظاہرین کو مطمئن کرنے کے لیے ایک وزارتی گروپ تشکیل دیا ہے جو 25 نومبر کو اپنی رپورٹ اسمبلی میں پیش کرے گا اور بعد ازاں مرکز کو بھیجے گا۔ آل مورن اسٹوڈنٹس یونین کے صدر پالندرا بورا کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے انھیں یقین دہانی کرائی کہ اگر مرکز نے جواب نہ دیا تو ریاستی حکومت دوبارہ غور کرے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مظاہروں کے دوران پولیس کارروائی یا کسی طرح کی سختی دیکھنے کو نہیں ملی، جس سے سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ بی جے پی خود اس تحریک کو پسِ پردہ پنپنے دے رہی ہے۔ ایک سینئر صحافی نے کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ حکومت پہلے بحران پیدا ہونے دیتی ہے اور پھر انتخابات سے پہلے اسے سلجھا کر فائدہ اٹھاتی ہے۔‘‘
سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ ان بڑے مظاہروں کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے؟ ہر ریلی پر 8 سے 10 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اگر مقامی کاروباری طبقہ فنڈنگ نہیں کر رہا تو رقم کا ذریعہ کوئی سیاسی جماعت بھی ہو سکتی ہے۔





