
چشم دید رمیش وشنوئی نے بتایا کہ بس تیز رفتاری سے چل رہی تھی۔ حادثے کے بعد انہوں نے ایمرجنسی گیٹ کھول کر کئی مسافروں کو باہر نکالا۔ قابل ذکر ہے کہ جیسلمیر بس میں آتشزدگی سانحہ کے بعد حکومت کی ہدایت پر پرائیویٹ بسوں میں ایمرجنسی گیٹ لگانا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس حادثے میں وہی ایمرجنسی گیٹس کئی مسافروں کی جان بچانے میں اہم ثابت ہوئے۔






