
یہ کارروائی دراصل اسرائیل کے اسی رویے کی غماز ہے جو برسوں سے جاری ہے یعنی طاقت کے نشے میں اندھا ہو کر ہر اصول کو روند دینا۔ حملہ اس وقت ہوا جب قطر میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ موجود ہے۔ اس حقیقت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنے بڑے فوجی اڈے کی موجودگی میں امریکہ کو حملے کی کوئی خبر نہ ہو؟ صدر ٹرمپ نے تو کہا ہے کہ وزیر اعظم نتن یاہو نے انہیں بتائے بغیر یہ کارروائی کی اور انہوں نے اس پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا، لیکن یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کو کچھ پتہ ہی نہ چلا ہو۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا رشتہ اتنا گہرا ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر کوئی بڑی کارروائی ممکن ہی نہیں۔
یہ حملہ ایک اور نکتہ واضح کرتا ہے کہ اسرائیل کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ عرب ممالک تو اس کی نگاہ میں پہلے ہی بے وقعت ہیں، لیکن اب وہ امریکہ کو بھی اپنے فیصلوں سے لاعلم رکھ سکتا ہے۔ اس اعتماد کی بنیاد امریکہ کی یہودی لابی ہے، جس کے دباؤ کے آگے ہر امریکی صدر جھکنے پر مجبور ہوتا ہے۔




