کئی اچھی اور بری وجوہات سے عرصہ تک سرخیوں میں رہنے والی اور اب ان سرخیوں سے تقریباً باہر آ چکی ایودھیا کے بارے میں یہ سب جان کر شاید آپ کو رنج بھی ہو اور حیرت بھی، لیکن نہ جاننے کے اندیشے زیادہ بڑے ہیں، اس لیے بتا رہے ہیں۔ اس شہر کے اُس حصہ میں، جس کا نام پہلے فیض آباد ہوا کرتا تھا، تاریخی چوک سے متصل ایک محلہ ہے ریڈگنج۔ یہ نام 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد اُس وقت کے فیض آباد ضلع کے کلکٹر بننے والے ایسٹ انڈیا کمپنی کے فوجی افسر چارلس ریڈ کے نام پر رکھا گیا تھا۔
اس جنگ میں باغی دیسی فوجوں نے اُس وقت کے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں انگریزوں کو کھدیڑ کر دہلی کو کمپنی سے آزاد کرا لیا تھا، اور پھر چارلس ریڈ نے اس پر دوبارہ قبضہ کرنے کی فوجی مہم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بعد میں انگلینڈ کی اُس وقت کی ملکہ وکٹوریہ نے ہندوستان کی حکومت کمپنی سے اپنے ہاتھ میں لے لی تو ریڈ کو فیض آباد کا کلکٹر مقرر کر کے ’1857 کی بے چینی کو ختم‘ کرنے اور اُن وعدوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری سونپی، جو انہوں نے ’رحم دل دیوی‘ بن کر اپنے اعلانیہ میں ’پیارے ہندوستانی عوام‘ سے کیے تھے۔
ملکہ کے اس ’انعام‘ کے بعد احسان مند ریڈ نے اپنی کلکٹری کے دوران اُن کی نظر میں سرخرو ہونے کے لیے برطانوی حکومت اور ہندوستانی عوام (خاص طور پر اُس کے اشرافیہ) کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے نام پر ایک علاقہ کا نام ریڈگنج رکھنا بھی اُس کی خدمات کا انگریز نوازوں کی طرف سے دیا گیا انعام ہی تھا۔ فیض آباد میں ریڈگنج ریلوے اسٹیشن بھی تھا، جسے آزادی کے بعد 1971 میں آچاریہ نریندر دیو کا نام دے دیا گیا۔ اب یہ اسٹیشن تو نہیں رہا، لیکن ریڈگنج محلہ کا نام جوں کا توں ہے۔ دعویٰ یہ بھی ہے کہ ریلوے اسٹیشن سے ریڈ کا نام ہٹا تو محلے کے نام سے بھی ہٹانے کی بات تھی۔ لیکن وہ بات، بات ہی رہ گئی۔ آج کی بات کریں تو یہ کوئی واحد مثال نہیں ہے۔ بی جے پی کی نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ حکومتوں کے ذریعہ ایودھیا کو نام بدلنے کے طویل سلسلے سے گزار کر ’بھویہ‘، ’دِوّیہ‘ اور ’نویہ‘ بنانے کے دعووں کے باوجود بھی اس میں تاریخی عمارتوں، محلوں/دیہات اور بلاک وغیرہ کے ایسے کئی نام چلے آ رہے ہیں، جو انگریزوں کے ایسے فوجی/غیر فوجی افسروں کے ناموں پر ہیں، جنہوں نے ملک کی جنگ آزادی کے بے رحمانہ استحصال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور جس نے بھی ان کے خلاف آواز اٹھائی، اُس پر بھرپور ظلم کیا۔
ریڈگنج محلہ میں ہی ایک اور انگریز کلکٹر فاربس کے نام پر ایک انٹر کالج ہے۔ کچھ سال قبل تک ایک اور کلکٹر ہوبارٹ کے نام کی لائبریری بھی تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ لائبریری کے نام سے ’ہوبارٹ‘ ہٹا دیا گیا ہے، بلکہ خستہ حال عمارت نے اس لائبریری کا وجود ہی ختم کر دیا۔ ڈفرن نامی ایک اور کلکٹر اپنے نام پر اسپتال کا نام رکھوا گیا تھا، جو اب ضلع اسپتال ہے، لیکن ہیرنگٹن نام کے کلکٹر کے نام کا بلاک اب بھی ہے۔ ایڈورڈ کے نام کا تو ایک میڈیکل اسٹور بھی ہے۔ 1902 میں ایودھیا کے تاریخی اور مذہبی مقامات کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے ’تیرتھ ویوچنی سبھا‘ قائم کی گئی تو اُس سے ایڈورڈ کا نام جوڑا گیا تھا، جس سے اب تک چھٹکارا نہیں ملا۔
وجہ یہ ہے کہ مغل بادشاہوں اور نوابوں کے دور کی باقیات اور ورثے کو ’غلامی کی نشانیاں‘ کہنے، انہیں مسمار کرنے اور ان سے جڑے بادشاہوں اور نوابوں کے نام ہٹا کر اپنی پیٹھ تھپتھپانے والی یوگی-مودی حکومتوں کو ان انگریز افسروں کے نام ’غلامی کی نشانی‘ نہیں لگتے۔ اُن کے حامیوں اور مددگاروں کو بھی نہیں۔
ایودھیا کے پرانے باشندے یاد کرتے ہیں کہ کانگریس نے اپنے دور حکومت میں انگریز افسروں ہی نہیں، ملکہ وکٹوریہ تک کے ناموں اور نشانیوں کو آزادی کی لڑائی کے اقدار اور جذبات کے خلاف سمجھ کر ہٹانا شروع کیا تو آج کی بی جے پی حکومتوں کے پیش رو اس پر تاخیر اور سستی کا الزام لگاتے تھے۔ لیکن اب اپنی باری پر انہوں نے غلامی کی نشانیوں کی تعریف ہی بدل ڈالی ہے۔
درحقیقت 1963 تک ایودھیا میں ملکہ وکٹوریہ کے نام کا ایک پارک ہوا کرتا تھا، جس میں اُن کا ایک مجسمہ بھی تھا۔ غلامی کے زمانے میں جو لوگ وہاں سے گزرتے، مجسمے کے احترام کو ’فرض‘ سمجھا جاتا اور ایسا نہ کرنا سزا یا جرمانے کا باعث بنتا۔ فیض آباد کی پولیس لائن میں بھی اُن کا مجسمہ تھا، جبکہ چوک میں واقع وہ گھنٹہ گھر بھی اُن کی یاد دلاتا تھا، جو 1857 میں انگریزوں کی فتح کی یاد میں ایک انگریز نواز راجہ نے بنوایا تھا۔ ملکہ وکٹوریہ نے خود اس گھنٹہ گھر کے لیے ایک بڑی گھڑی تحفے میں بھیجی تھی۔
دسمبر 1963 میں ایک خاتون سماجی کارکن کی پہل پر وکٹوریہ پارک کا نام ’تلسی اُدیان‘ رکھ دیا گیا اور اتر پردیش کے اُس وقت کے گورنر وشوناتھ داس نے وہاں تلسی داس کی مورتی کا افتتاح کر کے نئے نام کو مزید حیثیت دی۔ پولیس لائن والی وکٹوریہ کی مورتی بھی ہٹا دی گئی۔ لیکن اُس وقت اسے دیر سے اٹھایا گیا قدم کہہ کر ناک بھوں چڑھانے والوں کے راج میں آج حالت یہ ہے کہ چوک میں موجود گھنٹہ گھر میں لگی ملکہ وکٹوریہ کی دی ہوئی گھڑی کی سوئیاں عرصہ پہلے رک جانے کے باوجود گھڑی برقرار ہے۔
ولیم شیکسپیئر نے بھلے ہی کہا ہو کہ نام میں کیا رکھا ہے، اُن کے ملک کے انگریز حکمرانوں نے ہندوستان میں اپنے نام کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کے لیے مختلف اداروں، تنظیموں اور راستوں کے ناموں سے جوڑنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔ اُس زمانے میں اپنی راج بھکتی اور وفاداری دکھانے کے خواہشمند دیسی راجاؤں، تعلقہ داروں، زمینداروں، رائے بہادروں اور کمپنی کے حامیوں میں انگریز افسروں کو خوش کرنے والے نام رکھنے کی ہوڑ سی لگی رہتی تھی۔ اسی دوڑ کے تحت کچھ وفاداروں نے فیض آباد میں لائیڈ کی کلکٹری کے دوران اس کی خوشامد میں چوک کے ایک دروازے کا نام لائیڈ گیٹ رکھ دیا تھا۔ حالانکہ یہ دروازہ نواب شجاع الدولہ کے زمانے میں بنا تھا۔ اس گیٹ کا یہ نام بھی اب تک برقرار ہے، اور نام بدلنے کے ماہر ہندوتوا ماہرین کو یہ بالکل نہیں کھٹکتا۔
ہاں، جو نام انہیں کھٹکتے تھے، انہوں نے ضروری اور غیر ضروری کا فرق کیے بغیر مٹا دیا ہے اور بہت خوش ہیں۔ فیض آباد نام کو بھی انہوں نے اس کے باوجود ہٹا دیا کہ اس کا تعلق دہلی سے تھا، ایودھیا سے نہیں۔ پیدائش کے زمانے میں کافی فرق ہونے کے باوجود لوگ ایودھیا اور فیض آباد کو ’جڑواں شہر‘ کہتے تھے۔ فیض آباد ڈویژن کا صدر مقام بھی تھا، ضلع بھی اور شہر بھی، اور اس کے ساتھ کوئی نام نہاد فرقہ وارانہ پہلو بھی نہیں جڑا تھا۔ یوں، فیض آباد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ باپ (نواب شجاع الدولہ) کے ذریعہ اسے بسانے اور اودھ کی راجدھانی بنانے کے کچھ ہی برس بعد بیٹے (نواب آصف الدولہ) نے اپنے وقت میں راجدھانی لکھنؤ منتقل کر کے اسے اجاڑ دیا تھا۔ لیکن جب بی جے پی اقتدار میں آئی اور یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ بنے تو انہیں یہ اجڑا پن بھی برداشت نہیں ہوا۔ ان کی حکومت نے اسے ایودھیا میونسپل کارپوریشن کا ایک بے نام سا حصہ بنا دیا۔ نوابوں کے دور کی اس کی کئی دوسری نشانیوں کی پہچان بھی بدل دی۔ شجاع الدولہ کے خوابوں کے محل ’دل کشا‘ کو بھی دل کشا نہیں رہنے دیا، اسے ’ساکیت سدن‘ بنا دیا۔ نتیجتاً شجاع الدولہ اور ان کی بہو بیگم کے مقبرے ہی اس شہر میں ان کی نمایاں ’امانت‘ رہ گئے ہیں۔ وہ بھی اس مجبوری کے ساتھ کہ مقبروں کو انہی کا کہا جا سکتا ہے، جو ان میں دفن ہوں۔
رام مندر کے زائرین، عقیدت مندوں اور سیاحوں کی بھیڑ کی سہولت کے نام پر ایودھیا کی سڑکیں چوڑی کرنے کے لیے گزشتہ برسوں میں جو بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ ہوئی اور جس سے جڑے حادثات میں کئی بے گناہوں کی جانیں بھی گئیں، کہا جاتا ہے کہ اس کا ایک پوشیدہ مقصد بھی ایودھیا کو نوابوں کے دور کی پہچان سے، جو ان کی نظر میں ’غلامی کی نشانی‘ تھی، دور کرنا تھا۔ لیکن ان کی بدقسمتی کہ اس سب پر سوال اٹھنا اب بھی بند نہیں ہوئے ہیں۔ ایودھیا کے سرخیوں میں نہ رہنے کے باوجود کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی پوچھ ہی لیتا ہے کہ کیا انہیں انگریزوں کی غلامی، غلامی نہیں لگتی؟ اگر لگتی ہے تو وہ ان کے ناموں اور نشانیوں کے بارے میں اتنے برداشت والے کیوں ہیں؟ ’سماجوادی وچار منچ‘ کے اتر پردیش کے کنوینر اشوک شریواستو تو اس سے بھی آگے کا سوال پوچھتے ہیں: کیا اس لیے نہیں لگتی کہ ان کے بزرگ انگریزوں کی خدمت کیا کرتے تھے؟
شریواستو کے مطابق اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہندوتوا حکمراں غلامی کی نشانیوں کی اپنی تعریف کے معاملے میں بھی ایماندار نہیں ہیں۔ اس کی ایک مثال اودھ کے صوبیدار برہان الملک سعادت علی خان اول (جنہوں نے 26 جنوری 1722 سے 19 مارچ 1739 تک صوبے کی حکومت سنبھالی) کی دی ہوئی ’کوئے بہار‘ کی نشانی بھی ہے۔ ان کے مطابق سعادت علی اول جب اپنے لشکر کے ساتھ الہ آباد سے فیض آباد آ رہے تھے تو ان کے منتظمین نے راستے میں ان کے قیام کے لیے جو ایک گمنام جگہ منتخب کی، اس کی قدرتی خوبصورتی، خوبصورت باغات اور وسیع صاف میدان میں آرام دہ رات گزار کر وہ اتنے خوش ہوئے کہ صبح کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ’یہ تو کوئے بہار (بہار کی گلی) ہے بھائی، میں خوب گہری نیند سویا۔‘ پھر کیا تھا، منتظمین نے اس جگہ کا نام ’کوئے بہار‘ ہی رکھ دیا۔ لیکن یہ نام لوگوں کی زبان پر نہ چڑھ سکا اور کچھ ہی دنوں میں ’کوئے بہار‘ بدل کر ’کوڑے بھار‘ ہو گیا۔ ایودھیا کے پڑوسی ضلع سلطان پور میں واقع کوڑے بھار اب قصبہ بھی ہے اور ریلوے اسٹیشن بھی۔ وہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ کوڑے بھار نام سننے میں بہت برا لگتا ہے، اس لیے اسے بدل دیا جائے۔ وہ اس کے لیے آواز بھی اٹھاتے رہتے ہیں، لیکن حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔


































