انوج چودھری کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے جج کے تبادلے سے ناراض وکلاء کا عدالت کے باہر احتجاج

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 21, 2026363 Views


سی جے ایم وبھانشو سدھیر کے تبادلے نے قانونی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ دراصل پورا معاملہ 24 نومبر 2024 کے سنبھل تشدد سے منسلک ہے، جس میں یامین نامی شخص نے اپنے بیٹے کو 3 گولیاں مارنے کا الزام پولیس پر عائد کیا تھا۔ اس درمیان 18 ستمبر 2025 کو وبھانشو سدھیر نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے طور پر عہدہ سنبھالا۔ چارج سنبھالنے کے کچھ ہی ماہ بعد انہوں نے 9 جنوری 2026 کو اے ایس پی انوج چودھری سمیت کم و بیش 15 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کا حکم دیا تھا، جو 12 جنوری کو منظر عام پر آیا۔ پولیس انتظامیہ نے اس پر بغاوتی رخ اختیار کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کر دیا تھا اور ہائی کورٹ جانے کی بات کہی تھی۔ لیکن اس درمیان 22 جنوری کو ایف آئی آر درج کرنے کی مدت ختم ہونے سے عین قبل، 20 جنوری کی رات سی جےایم کا اچانک سلطان پور تبادلہ کر دیا گیا۔ وکلاء نے تبادلے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے پولیس کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...