
ارنب گوسوامی۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک/ری -پبلک)
نئی دہلی: صنعتکار انل امبانی نے مالی لین دین سے متعلق خبروں کے حوالے سے ری-پبلک ٹی وی اور اس کے مدیر ارنب گوسوامی کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ بار اینڈ بنچ کے مطابق، امبانی کا کہنا ہے کہ ان رپورٹوں سے ان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
اس معاملے کی شنوائی بدھ کے روز جسٹس ملند جادھو کے ذریعہ کیے جانے کا امکان ہے۔ درخواست میں ری-پبلک ٹی وی کی مالک کمپنی اے آر جی آؤٹ لائر، ارنب گوسوامی اور دیگر نامعلوم فریقین کے خلاف عارضی پابندی (انجکشن) لگانے کی مانگ کی گئی ہے۔
لائیو لا کے مطابق، امبانی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ مدعا علیہان کی جانب سے لکھے اور شائع کیے گئے مضامین سے مجروح ہوئے ہیں، جنہیں ان کے نیوز چینل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نشر کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ مبینہ ’قابل اعتراض اشاعتوں اور بیانات‘ میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے ریلائنس کمیونی کیشنز لمیٹڈ، ریلائنس ہوم فنانس لمیٹڈ اور ریلائنس کمرشل فنانس لمیٹڈ کے خلاف شروع کی گئی ریگولیٹری کارروائی سے متعلق معاملات کی رپورٹنگ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ری-پبلک ٹی وی اور گوسوامی اس بات سے واقف تھے کہ امبانی نومبر 2019 میں ریلائنس کمیونی کیشنز لمیٹڈ کے نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹ چکے تھے اور انہوں نے ان کمپنیوں میں کبھی کوئی انتظامی یا آپریشنل کردار ادا نہیں کیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے، ’یہ کمپنیاں الگ الگ اکائیاں تھیں اور درخواست گزار کا ان کے روزمرہ کے انتظام یا فیصلہ سازی کے عمل میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔‘
مزید کہا گیا ہے،’ان حقائق سے آگاہ ہونے کے باوجود، مدعا علیہان نے بدنیتی، جھوٹ اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں زیر تفتیش کمپنیوں سے متعلق الزامات کو درخواست گزار سے جوڑنے کی کوشش کی۔‘
امبانی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مدعا علیہان نے اپنی رپورٹوں کے ذریعے انہیں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے لیے ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا، جس میں سنسنی خیز سرخیاں، ہتک آمیز تبصرے اور توہین آمیز اشارے استعمال کیے گئے۔





