
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت یہ طے نہیں کر سکتی کہ کس کی گرفتاری ضروری ہے، لیکن تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے دکھائی جانے والی سستی اور عدم دلچسپی تشویش کا باعث ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ جانچ کا عمل ایسا ہونا چاہیے جس سے نہ صرف عدالت بلکہ عام شہریوں کو بھی انصاف کے نظام پر بھروسہ ہو۔
اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے دونوں ایجنسیوں کو آپس میں بہتر تال میل کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تحقیقات کو آگے بڑھائیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جانچ کسی بھی طرح کے تعصب یا دباؤ سے آزاد ہونی چاہیے تاکہ حقائق پوری دیانت داری کے ساتھ سامنے آ سکیں۔






