
مشہور اردو ناقد گوپی چند نارنگ کا ان کی شاعری کی خصوصیات پر کہنا ہے کہ ’’راجیش ریڈی اس احساس سے متصف ہیں کہ عام تجربے کو شعر میں ڈھال دیتا ہے۔ راجیش ریڈی کا بنیادی پیمانہ انسان ہے۔ اسی تصور کی بنتی بگڑتی توقعات سے جو تصورات پیدا ہوتے ہیں، راجیش ریڈی کی شاعری انہی سے عام فہم پیکر تراشتی ہے۔ اس دنیا میں جو کجی اور دیانت ہے، تہذیب کی چکاچوندھ کے پیچھے جو شر اور خبث، فتنہ و فساد ہے، ظاہر و باطن میں جو فرق ہے، راجیش ریڈی کا شعری ذہن اس پر سوچتا اور حیران ہوتا ملے گا۔‘‘ ان کے یہ اشعار اس کی زندہ مثالیں ہیں:
مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
یہ شعر معصومیت کے کھو جانے کے خوف کو بیان کرتا ہے، جہاں بچہ دنیا کی سفاکی دیکھ کر بڑا ہونے سے گھبراتا ہے۔ یہ مادیت زدہ معاشرے کی عکاسی ہے۔
یہ سارے شہر میں دہشت سی کیوں ہے
یقیناً کل کوئی تہوار ہوگا
یہاں تہواروں کی آڑ میں دہشت، فرقہ واریت اور سیاسی استحصال پر تلخ طنزہے۔
سر قلم ہوں گے کل یہاں ان کے
جن کے منہ میں زبان باقی ہے
اس شعر میں اظہار رائے کی آزادی پر حملوں اور آمریت کے خلاف آواز بلند کی گئی ہے۔
دنیا کو ریشہ ریشہ ادھیڑیں رفو کریں
آ بیٹھ تھوڑی دیر ذرا گفتگو کریں
یہاں تقسیم شدہ دنیا میں مکالمے کی ضرورت، رفو کا خوبصورت استعارہ موجود ہے۔
اب وہ دنیا عجیب لگتی ہے
جس میں امن و امان باقی ہے
پر آشوب دور کی حقیقت کو بیان کرتا شعر کہ جہاں انسان بد امنی کا عادی ہو چکا ہے اورامن اسے بے چین کرتا ہے۔
اس عہد کے انسان میں وفا ڈھونڈھ رہے ہیں
ہم زہر کی شیشی میں دوا ڈھونڈھ رہے ہیں
اس عہد میں وفاداری کی تلاش اسی طرح ہے جیسے زہر میں دوا ڈھونڈھنے کی کوشش۔
دنیا کو سمجھ لینے کی کوشش میں لگے ہم
الجھے ہوئے دھاگے کا سرا ڈھونڈھ رہے ہیں
ان کا یہ شعر فلسفیانہ گہرائی لئے ہوئے ہے۔
بیچ ڈالا ہم نے کل اپنا ضمیر
زندگی کا آخری زیور گیا
راجیش ریڈی کے اس شعر میں اخلاقی گراوٹ کو بیان کیا گیا ہے۔
آنکھ میں اشک کی آہٹ ہوئی دل چونک اٹھا
کان صحرا کے کھڑے ہو گئے پانی سن کر
جدائی کی نزاکت، صحرا میں پانی کی آہٹ بھی دل کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔
میں نے جس شخص کے آنسو کبھی گرنے نہ دیے
ہنس پڑا وہ بھی مری رام کہانی سن کر
راجیش ریڈی کے اس شعر میں ایثار اور قربانی کے صلے میں بے وفائی اور بے حسی کے مظاہرے کا بیان ہے۔






