انتخاب کی آزادی، تہذیبی تنوع اور اخلاقی تضادات

AhmadJunaidJ&K News urduNovember 23, 2025364 Views


حالیہ دنوں میں ایک ایسی تنظیم کے رہنما کا بیان منظرِ عام پر آیا جس نے اپنے قیام کے سو برس مکمل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوشت کھانے والے اکثریتی طبقے کے لوگوں کو ملازمت سے نکال کر سزا دی جائے تاکہ وہ گوشت چھوڑنے پر مجبور ہوں۔ اس بیان کے کئی پہلو ہیں۔ کچھ ترقی پسند کالم نگاروں نے اس جانب اشارہ کیا کہ کم از کم یہ تو تسلیم کیا گیا کہ اکثریتی سماج میں بھی بڑی تعداد گوشت کھاتی ہے۔ ایک سبزی خور کی حیثیت سے میرے ذہن میں کئی سوال اٹھے، کیونکہ یہ صرف کھانے پینے کا معاملہ نہیں بلکہ انتخاب کی آزادی اور انسانی حق کا مسئلہ ہے۔

گزشتہ برسوں میں کھانے کو فرقہ وارانہ سیاست کا آلہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان جن قدیم انسانی گروہوں سے وجود میں آیا، وہ سب گوشت کھانے والے تھے۔ ارتقا کے سفر میں یہ نہیں کہ تمام جاندار سبزی خور رہے ہوں۔ آج جن جانوروں کو پالا جاتا ہے، ان میں گائے بیل کی نسلیں سبزی خور ہیں اور دیوہیکل ہاتھی بھی پودوں پر زندہ رہتا ہے۔ یہ وہ اقسام ہیں جن کے جسم میں گوشت ہضم کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...