کناڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ایک بڑا ’تجارتی اتحاد‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کا جواب تصور کیا جا رہا ہے۔ دراصل ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ڈنمارک نے گرین لینڈ کو امریکہ کے حوالہ نہیں کیا، تو اس کے یوروپی ساتھیوں پر ٹیرف بڑھا دیے جائیں گے۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے یوروپی یونین اور انڈو-پیسفک خطہ کے 12 ممالک کے گروپ ’سی پی ٹی پی پی‘ (کمپری ہنسیو اینڈ پروگریسیو ایگریمنٹ فار ٹرانس-پیسفک پارٹنرشپ) نے آپسی تعاون بڑھانے پر بات چیت شروع کی ہے۔ اس مجوزہ اتحاد سے تقریباً 1.5 ارب لوگ جڑ سکتے ہیں اور تقریباً 40 ممالک ایک معاشی پلیٹ فارم پر آ سکتے ہیں۔
کناڈا کے وزیر اعظم کارنی نے داووس میں ہوئی ورلڈ اکونومک فورم کی میٹنگ میں دنیا کے لیڈران اور بڑے صنعت کاروں سے کہا ہے کہ کناڈا سی پی ٹی پی پی اور یوروپی یونین کے درمیان ایک پُل بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مقصد دونوں فریقوں کی سپلائی چین کو جوڑنا ہے۔ اس سے کناڈا، سنگاپور، میکسیکو، جاپان، ویتنام، ملیشیا اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی تجارت یوروپ کے ساتھ مزید آسان ہو سکے گی۔
اس بات چیت کا اہم ایشو ’رولس آف آریجن‘ ہے۔ یہ اصول طے کرتے ہیں کہ کسی پروڈکٹ کو کس ملک کا مانا جائے گا۔ اگر اس پر معاہدہ ہو جاتا ہے تو یوروپین یونین اور انڈو-پیسفک گروپوں کے ممالک کم ٹیرف میں سامان اور اس کے پرزوں کی تجارت کر سکیں گے۔ اس عمل کو کیومولیشن کہا جاتا ہے، جس سے تجارت زیادہ آسان اور سستی ہو جاتی ہے۔
کناڈا کے وزیر اعظم نے اپنے خصوصی نمائندہ جان ہینافورڈ کو سنگاپور بھیج کر علاقائی لیڈران سے اس سمجھوتہ پر رائے لی۔ کناڈا کے ایک افسر کے مطابق بات چیت اچھی اور حوصلہ افزا رہی ہے۔ یوروپی یونین کے کچھ افسران اس منصوبہ کو لے کر پُرجوش ہیں، لیکن فی الحال ان کی ترجیحات سپلائی چین کو مضبوط کرنا اور تجارت میں تنوع لانا ہے۔ یوروپی کے تجارتی ادارے، مثلاً ’جرمن چیمبر آف کامرس‘ (ڈی آئی ایچ کے) اور ’برٹش چیمبر آف کامرس‘ اس معاہدہ کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر اصول سہل اور یکساں ہوں تو یوروپی کمپنیوں کو بڑا فائدہ ہوگا۔ اس صورت میں مستقبل میں مزید ممالک بھی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































