امن مذاکرات میں ناکامی کے بعد امریکہ نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ہندوستانی جہازوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ 11 اپریل کو ہندوستانی پرچم والا 10واں ایل پی جی ٹینکر ’جَگ وکرم‘ آبنائے ہرمز کو پار کر کے بحیرہ عرب میں پہنچ گیا۔ اس پر 20400 ٹن ایل پی جی اور 24 عملے کے اراکین سوار ہیں۔ یہ جہاز 15 اپریل کو ممبئی پہنچنے والا ہے۔ وزارت جہاز رانی کے مطابق مغربی حصے (خلیج فارس) میں اب بھی 15 ہندوستانی جھنڈے والے جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک ایل این جی جہاز، ایک خالی ایل پی جی جہاز، 6 کروڈ آئل ٹینکر (5 بھرے ہوئے اور ایک خالی)، 3 کنٹینر جہاز، ایک ڈریزر اور ایک کیمیکل کارگو جہاز شامل ہیں۔ ان جہازوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہندوستانی بحریہ مسلسل کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ ہندوستانی بحریہ نے جنگ شروع ہوتے ہی اضافی ٹاسک فورس بنا دی ہے۔ بحریہ خلیج فارس کے اندر نہیں جا رہی ہے، لیکن آبنائے ہرمز پار کرنے والے جہازوں کو نیوی گیشن اور کمیونیکیشن کی مدد دے رہی ہے۔ جہازوں کے ہرمز کو پار کرنے کے بعد، بحریہ کے جہاز انہیں خلیج عمان اور پھر شمالی بحیرہ عرب میں بحفاظت لے جاتے ہیں۔
ایل پی جی ٹینکر ’جَگ وکرم‘ سے قبل ’گرین سنوی‘ نامی جہاز 46655 ٹن ایل پی جی لے کر گجرات پہنچ چکا ہے۔ ’گرین آشا‘ 15400 ٹن ایل پی جی لے کر ممبئی پہنچ گیا۔ ’جگ وسنت‘ کانڈلا پہنچ چکا جبکہ ’پائن گیس‘ نے 45000 ٹن ایل پی جی نیو منگلور پہنچایا۔ اب تک مجموعی طور پر 10 ہندوستانی جہاز آبنائے ہرمز پار کر چکے ہیں، شروع میں 25 جہاز پھنسے تھے۔ بحریہ کی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیزر (ایس او پی) میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ بحریہ مسلسل سمندری آمد و رفت کی نگرانی کر رہی ہے، جہازوں کو محفوظ راستے کی جانب رہنمائی کر کے انہیں نکال رہی ہے۔
گروگرام میں واقع انفارمیشن فیوژن سنٹر (آئی ایف سی-آئی او آر) پورے علاقے کی 24 گھنٹے نگرانی کر رہا ہے۔ یہ مرکز 28 ممالک کے ساتھ منسلک ہے۔ سمندری سیکورٹی کی ریئل ٹائم معلومات فراہم کرتا ہے۔ مرکز میں 14 بین الاقوامی رابطہ افسران تعینات ہیں۔ رواں ہفتہ جاری رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے سے 6 اپریل تک آبنائے ہرمز کے علاقے میں مجموعی طور پر 30 واقعات پیش آئے ہیں۔ ان میں 23 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 2 میزائل حملے، 3 ڈرون حملے، 19 نامعلوم پروجیکٹائل، ایک واٹر-بورن آئی ای ڈی اور دیگر واقعات شامل ہیں۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر 10 لوگ مارے گئے۔
قابل ذکر ہے کہ امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں طرف سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ہرمز کا انتظام نئے مرحلے میں لے جائے گا۔ اس کشیدگی کی وجہ سے دنیا کا سب سے اہم تیل اور گیس روٹ متاثر ہو رہا ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہاں سے ملک کو بڑی تعداد میں خام تیل اور ایل پی جی آتا ہے۔




































