امریکی مداخلتی پالیسی کی واپسی

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 4, 2026362 Views


اس کے برعکس، زیادہ تر ریپبلکنز نے صدر ٹرمپ کی کارروائی کی تعریف کی۔ سینیٹ میں ریپبلکن اکثریت کے رہنما جان تھون نے اسے “ناقابل قبول جمود کو توڑنے اور مادورو کو پکڑنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی” قرار دیا۔ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن نمائندے ماریو ڈیاز-بلارٹ نے اس کارروائی کو کیوبا اور نکاراگوا کی “آمریتوں” کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا، “اگلے دو کی باری ہے، ان کے دن بھی گنے جا چکے ہیں۔”

صدر ٹرمپ نے کانگریس کو مکمل طور پر مطلع نہ کرنے کا جواز یہ پیش کیا کہ “کانگریس میں معلومات لیک ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے۔” یہ واقعہ نہ صرف انتظامیہ اور قانون سازوں کے درمیان اعتماد کے بحران کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی پر کانگریس خود کس قدر منقسم ہے۔

2۔ اقوام متحدہ نے اسے ایک خطرناک مثال قرار دیا

امریکی مداخلت پر بین الاقوامی ردعمل بھی اتنا ہی شدید رہا ہے، خاص طور پر دنیا کے سب سے بڑے قانونی ادارے، اقوام متحدہ کی جانب سے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس پیشرفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات “ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔علاوہ ازیں، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدر، اینالینا بیئربوک نے اس مؤقف کو مزید تقویت دیتے ہوئے بیان دیا کہ “سب کے لیے ایک پرامن، محفوظ اور منصفانہ دنیا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس’ کے بجائے قانون کی حکمرانی قائم ہو۔”

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...