ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے درمیان امریکی فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے اور فوری ریٹائرمنٹ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ حکم امریکہ کے وزیرِ دفاع کی جانب سے دیا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنرل جارج نے باضابطہ استعفیٰ تو نہیں دیا، تاہم امکان ہے کہ وہ جلد اس کا اعلان کر سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت پینٹاگون میں ایک اہم قیادت کی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس فیصلے کا وقت انتہائی حساس سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ امریکہ ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی ایران کو “پتھر کے دور” میں واپس بھیجنے اور شدید حملوں کی دھمکی دے چکے ہیں۔ تاحال اس فیصلے کی واضح وجوہات سامنے نہیں آئیں، تاہم رپورٹس کے مطابق کچھ حلقوں کو خدشہ تھا کہ جنرل جارج ٹرمپ انتظامیہ کی عسکری حکمتِ عملی کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کر پا رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق وزیرِ دفاع ہیگستھ ایسے فوجی سربراہ کو آگے لانا چاہتے ہیں جو صدر ٹرمپ کے وژن اور پالیسیوں کے مطابق کام کر سکے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ جنرل جارج اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان عسکری حکمتِ عملی پر کوئی اختلاف موجود تھا یا نہیں۔
جنرل رینڈی جارج کو 2023 میں سابق امریکی صدر جو بائڈن نے فوجی سربراہ نامزد کیا تھا اور سینیٹ نے اس کی توثیق کی تھی۔ ان کی مدتِ ملازمت 2027 تک تھی، تاہم قبل از وقت سبکدوشی کی ہدایت ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ یہ تمام پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ قیادت کے ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلیوں کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے خطے اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



































