
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، فوٹو: اے پی / پی ٹی آئی
نئی دہلی: جمعہ (20 فروری) کو آئے فیصلے میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرپ کی تجارتی پالیسی پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں ۔ عدالت نے کہا کہ ٹرمپ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت حاصل اختیارات کی حد کو عبور کرتے ہوئے وسیع باہمی (ریسیپروکل ) ٹیرف نافذ کیے۔
اس فیصلے کا اثرامریکہ کی جانب سے حالیہ برسوں میں کیے گئے متعدد تجارتی معاہدوں پر پڑ سکتا ہے، جن میں ہندوستان کے ساتھ مجوزہ عبوری تجارتی معاہدہ بھی شامل ہے۔
حالاں کہ ، سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد پریس کانفرنس میں جب ٹرمپ سے ہندوستان کے ساتھ ہوئی ٹریڈ ڈیل پر مرتب ہونے والےاثرات کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نےکہا،’کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ ہندوستان ٹیرف ادا کرے گا۔ ہم ٹیرف نہیں دیں گے۔‘
انہوں نے کہا، ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں ،یہ صورتحال پہلے کے برعکس ہے۔‘ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں’گریٹ جنٹل مین‘ بتایا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’وہ ہمیں لوٹ رہے تھے۔‘
دی ہندو کے مطابق،ٹرمپ نے کہا،’ہم نے ہندوستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔ اب یہ ایک غیرجانبدارانہ معاہدہ ہے۔ ہم انہیں ٹیرف نہیں دے رہے، بلکہ وہ ہمیں ٹیرف دے رہے ہیں۔ ہم نے اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا۔‘
معاہدے کی شرائط کے مطابق، امریکہ میں آنے والی ہندوستانی مصنوعات پر عمومی ٹیرف کی شرح 50 فیصد (جس میں روس کے ساتھ ہندوستان کے انرجی ٹریڈ پر عائد 25 فیصد ’تعزیری‘ ڈیوٹی بھی شامل ہے) سے کم کرکے 18 فیصد کر دی گئی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ وہ جمعہ (20 فروری 2026) کو امریکی ٹریڈ ایکٹ ،1974 کی دفعہ 122 کے تحت 10 فیصد کا ایک جامع ’عالمی ٹیرف‘ نافذ کرنے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے، جو تین دن میں لاگو ہو جائے گا۔
یہ ٹیرف زیادہ سے زیادہ 150 دن تک مؤثر رہے گا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ قومی سلامتی کی بنیاد پر عائد دفعہ 232 کے ٹیرف (مثلاً اسٹیل اور ایلومینیم پر) اور ’غیر مناسب‘تجارتی طریقوں سے متعلق دفعہ 301 کے ٹیرف جاری رہیں گے۔ صدر نے کہا کہ وہ دفعہ 301 کے تحت نئی تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔ تاہم، ہندوستان پر مجموعی 18 فیصد ٹیرف شرح کی قانونی بنیاد ابھی واضح نہیں ہے۔
ایک صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو ’شاندار‘ قرار دیا اور کہا کہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ ان کے تعلقات ’خوشگوار‘ ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی درخواست پر ہندوستان نے روسی تیل کی خریداری بند کر دی ہے۔ ٹرمپ نے پہلے کی طرح اس دعوے کو بھی دہرایا کہ انہوں نے مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو 200 فیصد ٹیرف کی دھمکی دے کر رکوا دیا تھا ۔
جمع کیے گئےٹیرف کی واپسی کا مطالبہ کر سکتے ہیں ممالک؟
اگر ان ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے، تو امریکی کمپنیاں اپریل میں نافذ کیے گئے مبینہ’لبریشن ڈے‘ٹیرف کے تحت وصول کیے گئے کسٹم ڈیوٹی کی واپسی کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔کنسلٹنگ کمپنی پرائس واٹر ہاؤس کوپرز کے اندازے کے مطابق، اکتوبر کے آخر تک ان ٹیرف سے تقریباً 108 ارب ڈالر وصول کیے جا چکے تھے۔ جن میں سب سے زیادہ رقم چین سے (تقریباً 34 ارب ڈالر) وصول کی گئی۔ہندوستان سے اکتوبر 2025 تک تقریباً 48.7کروڑ ڈالر کی وصولی کا اندازہ ہے۔
ان ٹیرف کو واپس لینے کی صورت میں حالیہ مہینوں میں یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور ہندوستان جیسے ممالک کے ساتھ ہوئےتجارتی معاہدے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔دراصل یہ معاہدے انہی ٹیرف کے دباؤ اور باہمی رعایتوں کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے۔
ہندوستان کی حکمت عملی: انتظار اور احتیاط
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان فی الحال’انتظار اور نگرانی‘ کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اخبار کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستان امریکی انتظامیہ کے اگلی کارروائی کو دیکھ کر ہی آگے کا قدم طے کرے گا۔ ہندوستان اور امریکہ ایک عبوری تجارتی معاہدے پر متفق ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک ’ٹرمز آف ریفرنس‘ میں متفقہ فریم ورک کے مطابق ایک جامع اور دو طرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کی سمت میں کام کر رہے ہیں ، تاہم ابھی تک اس پر باضابطہ دستخط نہیں ہوئے ہیں۔
ہندوستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ بازار تک رسائی سے متعلق کسی بھی رعایت کا اطلاق صرف اسی وقت ہوگا، جب معاہدے پر باضابطہ دستخط ہو جائیں گے۔
جہاں تک فیصلے کے انتظار کا تعلق ہے، تو ایک سینئر عہدیدار کے مطابق کہ یہ آپشن عملی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ بیان ٹرمپ سے براہ راست بات چیت کے بعد ہی جاری کیا گیا تھا۔ اس صورت میں اگر ہندوستان تاخیر کا عندیہ دیتا، تو اس کے منفی سفارتی نتائج نکل سکتے تھے۔ نئی دہلی میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر آئی ای ای پی اے کے تحت ٹیرف کا راستہ بند ہوتا ہے، تو واشنگٹن دیگر قانونی طریقوں کا سہارا لے سکتا ہے، کیونکہ ٹیرف ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم ہتھیار رہا ہے۔
آئی ای ای پی اے کی حدود اور ممکنہ اثرات
سال1977میں بنا آئی ای ای پی اے اب تک صدر کو وسیع ہنگامی اقتصادی اختیارات دینے والا قانون سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے اس کی تشریح کو محدود کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی)کو محصولات کی وصولی روکنی پڑ سکتی ہے اور موجودہ ٹیرف نظام کوختم کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیز، درآمد کنندگان کو اس پیچیدہ سوال کا سامنا کرنا پڑے گا کہ پہلے سے ادا کی گئی ڈیوٹی کی واپس کا عمل کیا ہوگا۔
اگر آئی ای ای پی اے کے تحت عائد ٹیرف کالعدم قرار دیے جاتےہیں، تو تجارتی تعلقات میں غیر یقینی صورتحال کسی حد تک کم ہو سکتی ہے۔تاہم، امریکہ کے پاس دفعہ 232 اور 301 جیسے دیگر قانونی راستے موجود ہیں، جن کی حدود نسبتاً زیادہ واضح ہیں۔
ٹرمپ کا’پلان بی ‘: متبادل قانونی راستے
آئی ای ای پی اے پر سوال اٹھنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے دفعہ 232 کے تحت ٹیرف عائد کرنے کی رفتار تیز کر دی ہے۔ اس کے تحت ایلومینیم، کار اور آٹو پارٹس، تانبا، فرنیچر، لکڑی، اسٹیل اور ٹمبر پر محصولات بڑھائے گئے ہیں۔
روبوٹکس اور صنعتی مشینری کی درآمدات کا جائزہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق،امریکہ ان مصنوعات کا خالص درآمد کنندہ ہے اور گزشتہ برس اس نے برآمدات سے 25 ارب ڈالر زیادہ درآمدات کیں۔ ملک میں صنعتی روبوٹس کی بڑے پیمانے پر تیاری کرنے والی کوئی بڑی کمپنی نہیں ہےاور مقامی سطح پر پرزہ جات دستیاب کرانے والے بھی محدود ہیں۔
حالاں کہ دفعہ 232 کے ٹیرف آئی ای ای پی اے کے تحت عائد کیے گئے وسیع ٹیرف جتنے ہمہ گیر نہیں ہیں، لیکن انہیں قومی سلامتی کی بنیاد پر مضبوط قانونی تحفظ حاصل ہے، اور امریکی سپریم کورٹ ماضی میں ایسے امور میں مداخلت سے گریز کرتی رہی ہے۔
ہندوستانی حکام کے مطابق مذاکرات کے دوران دفعہ 232 کے ٹیرف بنیادی تشویش کا موضوع نہیں رہے، کیونکہ یہ تمام ممالک پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں اور کسی ایک ملک کی مسابقتی حیثیت کو خصوصی طور پر متاثر نہیں کرتے۔
اس کے علاوہ، امریکی انتظامیہ دفعہ 122 کے تحت 150 دن کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 فیصد ٹیرف عائد کر سکتی ہے، جبکہ دفعہ 301 کے ذریعے مخصوص ممالک اور صنعتوں پر ہدفی محصولات بھی لگائے جا سکتے ہیں۔
نچلی عدالتوں سے ہی مل گئے تھےاشارے
سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی نچلی عدالتوں کے رویے سے اشارے مل چکے تھے۔ ایک درجن سے زائد چھوٹے امریکی کاروباریوں نے ٹیرف کے خلاف چیلنج کیا تھا، اور مخالفین کی تعداد حامیوں سے کہیں زیادہ تھی۔
اپریل 2025 میں الینوائے کے شمالی ضلع کی امریکی ضلع عدالت نے حکومت کی دلیل مسترد کر دی تھی۔اس کے بعد جون میں کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ (سی آئی ٹی)نے واضح کیا کہ آئی ای ای پی اے صدر کو عمومی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا، اور اگست میں فیڈرل سرکٹ کی اپیل عدالت نے بھی کہا کہ کانگریس نے ایگزیکٹو کو اتنے وسیع اختیارات کبھی نہیں دیے۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں






