ایران نے امریکہ کے سب سے جدید ایف-35 جنگی طیارہ کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دوسری بار ہے جب جنگ کے دوران ایران نے امریکہ کے ایف-35 کو فضا میں ہی آگ کا گولہ بنانے کی بات کہی ہے۔ ایف-35 کو امریکہ کا سب سے جدید جنگی طیارہ مانا جاتا ہے۔ یہ پانچویں نسل کا جنگی طیارہ ہے اور ایک ایسا فائٹر جیٹ ہے جسے رڈار بھی آسانی سے نہیں پکڑ سکتا۔ اس جنگی طیارہ کی قیمت اوسطاً 1200 کروڑ روپے ہے۔ اسے امریکہ کا غرور بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ پوری دنیا میں اس کے مقابلے کا جنگی طیارہ بہت کم ممالک کے پاس ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق وسطی تہران میں جب ایف-35 فضائی حملے کے لیے پرواز کر رہا تھا، اسی دوران اسے مار گرایا گیا۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ (آئی آر جی سی) نے اس بارے میں زیادہ جانکاری نہیں دی ہے۔ اس سے پہلے 19 مارچ کو ایک آپریشن کے دوران ایران نے ایف-35 پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ اگرچہ جیٹ کے پائلٹ نے اسے بہ حفاظت لینڈ کرا لیا، لیکن طیارہ بچ نہیں سکا۔ امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق اب یہ طیارہ سروس کے قابل نہیں رہا ہے۔
اس جنگی طیارہ کو معمولی طریقے سے مار گرانا ایران کے لیے بڑی بات ہے۔ اب سوال اٹھ رہا ہے کہ ایران یہ کارنامہ کیسے انجام دے رہا ہے؟ ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ میں امکانات ظاہر کیے گئے ہیں کہ ایف-35 کو گرانے کے لیے چین کے ایک انجینئر کے مشورے پر عمل کیا جا رہا ہے۔
دراصل چین کے ایک انجینئر نے حال ہی میں ایک ویڈیو بنائی تھی، جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایف-35 کو کس طرح آسانی سے مار گرایا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو فارسی سب ٹائٹلز کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح انفراریڈ میزائلوں، موبائل لانچروں اور عارضی سنسروں جیسے آسانی سے دستیاب کم لاگت والے ہتھیاروں کے ذریعے ایف-35 کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ویڈیو کو اب تک 4 کروڑ افراد دیکھ چکے ہیں اور ایران میں یہ خوب وائرل ہو رہی ہے۔
بہرحال، ایف-35 کو ایران کے ذریعہ نشانہ بنانا ٹرمپ کے تکبر توڑنے والا ہے۔ سی این این نے امریکی خفیہ ایجنسی کے عہدیداروں کے حوالے سے 19 مارچ کو ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے ایف-35 پر فائرنگ کی، جس سے فائٹر جیٹ کا توازن بگڑ گیا۔ اس کی وجہ سے طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔ تاہم، امریکی حکومت نے اسے سرکاری طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































