’امریکہ کی 15 نکاتی تجویز زیادہ مطالبات پر مبنی، ہم نے مطالبات کا اپنا ایک الگ سیٹ تیار کیا ہے‘، ایران جنگ بندی کو تیار!

AhmadJunaidJ&K News urduApril 6, 2026359 Views


تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر تہران اپنی پوری طاقت سے اپنے ملک کی حفاظت کرے گا۔

<div class="paragraphs"><p>مشرق وسطیٰ کی جنگ (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div><div class="paragraphs"><p>مشرق وسطیٰ کی جنگ (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>

i

user

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ یوں تو تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے، لیکن کچھ ایسے اشارے ملے ہیں جو جنگ بندی کی راہ آسان بنا سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے پیر کے روز ایک بیان دیا ہے، جس میں کہا ہے کہ اس نے ثالثوں کی طرف سے پیش کردہ تجاویز پر اپنا جواب تیار کر لیا ہے۔ حالانکہ اس نے یہ بھی کہا کہ جب تک امریکہ و اسرائیل حملہ تیز کرتے رہیں گے، وہ براہ راست مذاکرہ میں شامل نہیں ہوگا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگ بندی کے لیے تہران نے اپنے قومی مفاد کی بنیاد پر شرطیں تیار کی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ کی 15 نکاتی تجویز زیادہ مطالبات پر مبنی ہے۔ ہم نے مطالبات کا اپنا ایک الگ سیٹ تیار کیا ہے، اور اسے رسمی شکل دے دیا ہے۔ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اصفہان میں پائلٹ بچاؤ مہم صرف ایک دھوکہ تھا، جس کا مقصد ایران کے افزدہ یورینیم کو ضبط کرنا تھا۔‘‘ اس نے مزید کہا کہ ’’عمان کے ساتھ بات چیت کا مرکز آبنائے ہرمز کے ذریعہ جہازوں کے محفوظ راستہ کے لیے ایک پروٹوکول بنانے پر ہے۔‘‘

تہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے کچھ عزائم ظاہر کیے۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر تہران ’اپنی پوری طاقت‘ سے اپنے ملک کی حفاظت کرے گا۔ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ ان کی ’کوئی ریڈ لائن‘ نہیں ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرتے ہیں۔ بقائی نے ثالثوں کے ذریعہ بھیجے گئے امریکہ کی مبینہ 15 نکاتی جنگ بندی تجویز کو غیر مدلل قرار دیا اور کہا کہ دھمکیوں کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں کسی بھی سمجھوتہ کو قبول تبھی کیا جائے گا جب وہ ایران کے قومی سیکورٹی کے مفاد میں ہوں گے۔

اس درمیان ایران کا کہنا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے کو راضی نہیں ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کے مطابق ایک سینئر ایرانی افسر نے کہا کہ پاکستان کی تجویز پر غور و خوض چل رہا ہے، لیکن دباؤ میں فیصلہ نہیں لیا جائے گا۔ افسر کے مطابق تہران عارضی جنگ بندی کے بدلے کوئی رعایت نہیں دے گا، اور آبنائے ہرمز بھی نہیں کھولے گا۔ انھوں نے کہا کہ ایران کو لگتا ہے امریکہ مستقل جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہے، اس لیے عارضی معاہدہ کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...