
حکام کے مطابق متاثرہ شخص کا رابطہ براہِ راست گھریلو پرندوں سے تھا۔ اس کے گھر کے پچھلے حصے میں مرغیوں اور دیگر پرندوں کا مشترکہ جھڈ موجود تھا جبکہ چند دن قبل دو پرندوں کی موت بھی واقع ہوئی تھی۔ صحت افسران کا اندازہ ہے کہ وائرس کی منتقلی کا ذریعہ یا تو متاثرہ گھریلو پرندے تھے یا پھر وہاں آنے والے جنگلی پرندے، جو اس علاقے میں باآسانی داخل ہو سکتے تھے۔ اس پس منظر کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کے قریبی افراد میں سے کسی میں بھی برڈ فلو کی علامات یا منتقلی کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) نے کہا ہے کہ اس واقعے کے باوجود عوام کے لیے خطرہ انتہائی کم ہے، تاہم نگرانی کا عمل مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ وائرس کے ممکنہ تغیرات اور اس کے پھیلاؤ کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق وائرس کا جینیاتی تجزیہ حیرت انگیز تبدیلیوں کی نشاندہی کرسکتا ہے، اسی لیے سائنسی مطالعات جاری ہیں۔





