’امریکہ-اسرائیل کی لابی نے دہائیوں قدیم خارجہ پالیسی کی سمت بدل دی‘، پی ایم مودی کے اسرائیل دورہ پر کانگریس کا سخت رد عمل

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 25, 2026360 Views


کانگریس کا کہنا ہے کہ جس ماحول میں وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل گئے ہیں، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ امریکہ کبھی بھی ہمارے پرانے ساتھی ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>اسرائیل دورہ پر پہنچے پی ایم مودی، تصویر ’ایکس‘ <a href="https://x.com/BJP4India">@BJP4India</a></p></div><div class="paragraphs"><p>اسرائیل دورہ پر پہنچے پی ایم مودی، تصویر ’ایکس‘ <a href="https://x.com/BJP4India">@BJP4India</a></p></div>

i

user

’’وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورہ پر ہیں۔ وہ پہلی بار 2017 میں اسرائیل گئے تھے۔ حالانکہ وہ گئے تھے، بھیجے گئے تھے یا بھجوائے گئے تھے… اس بارے میں آپ کو تفصیل سے بتائیں گے۔ اب جس ماحول میں وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل گئے ہیں، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ امریکہ کبھی بھی ہمارے پرانے ساتھی ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس سے قبل وہ دھمکیوں سے ڈر کر ایران اور روس سے تیل کی خریداری بند کر چکے ہیں۔ اب ایسے ماحول میں وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ انھوں نے پی ایم مودی کے اسرائیل دورہ کی تنقید کی اور اس کے پیچھے موجود کچھ شبہات کی طرف اشارہ کیا۔

پون کھیڑا نے میڈیا اہلکاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل اور فلسطین سے متعلق ہندوستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ’دو ملکی‘ اصول والی رہی ہے۔ لیکن امریکہ-اسرائیل کی ایک لابی نے ہماری دہائیوں قدیم خارجہ پالیسی کی شکل و سمت بدل دی۔‘‘ انھوں نے جیفری ایپسٹین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایپسٹین عام لوگوں کے لیے ایک نامی جنسی مجرم ہے، لیکن مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ہیرو ہے۔ مرنے کے بعد مودی حکومت کے فیصلوں اور ان کی پالیسیوں میں ایپسٹین زندہ ہے۔ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ’ایپسٹین‘ نریندر مودی کا نظریہ ہے۔‘‘

کانگریس ترجمان نے پی ایم مودی کے ایک پرانے بیان پر طنز بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے حال ہی میں سنا کہ نریندر مودی نے کہا– ’میں نے بچپن میں ایک روبوٹ بنایا تھا، جس کے لیے مجھے میڈل بھی ملا تھا۔‘ یہی بات ٹرمپ، نیتن یاہو اور ایپسٹین بھی کہتا ہے کہ ہم نے ایک روبوٹ بنایا ہے، جس کا نام نریندر مودی ہے، اور وہ ہندوستان کا وزیر اعظم ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’4 جنوری 2017 کو ہردیپ سنگھ پوری نے ایپسٹین کو ای میل بھیجتے ہوئے کہا– ’مجھے ملنا ہے۔‘ اور آخر میں 6 جنوری کو میٹنگ طے ہوتی ہے۔ اس کے فوراً بعد ایپسٹین ایک دیگر شخص دیپک چوپڑا کو ای میل کرتا ہے اور انل امبانی کے بارے میں پوچھتا ہے۔ آخر میں ایپسٹین اور انل امبانی کی 21 فروری 2017 کو ملاقات ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر کس کے اشارے پر ایپسٹین کسی دیگر کی مدد لے کر انل امبانی کو تلاش کرنے نکل پڑا؟‘‘

پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے ’ایپسٹین فائلز‘ کی کرونولوجی بھی پیش کی، جو اس طرح ہے…

23 فروری، 2017:

2 مارچ 2017:

  • انل امبانی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو ای میل بھیج کر وہائٹ ہاؤس کے ساتھ ہندوستان کے دفاعی معاملوں پر مشورہ طلب کرتے ہیں۔

  • جیفری ایپسٹین ای میل میں پوچھتا ہے– یہ بتائیے کہ آپ ہمیں بدلے میں کیا دے سکتے ہیں؟

  • انل امبانی جواب میں لکھتے ہیں– ہندوستان کا پورا بازار۔

  • جس کے بعد ایپسٹین کہتا ہے کہ میں آپ کو اندر کی خبر لا کر دیتا ہوں۔

اس کے بعد…

ایسا اس لیے کیونکہ جیفری ایپسٹین کو انل امبانی کو رپورٹ کرنا تھا، شاید انل امبانی کو بھی یہاں کسی کو رپورٹ کرنا ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Previous Post

Next Post

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...