
اس نوٹس کے منظرِ عام پر آنے سے قبل ہی سیاسی ماحول گرم ہو چکا تھا۔ ترنمول کانگریس کے ایک سینئر رہنما نے الزام عائد کیا کہ امرتیہ سین جیسے عالمی سطح کے معزز دانشور کو ایس آئی آر کے تحت نوٹس دینا بنگال کے عوام کی توہین کے برابر ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت رکھتا ہے۔
نوٹس جاری ہونے کے بعد ترنمول کانگریس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایک نوبل انعام یافتہ شخصیت کو عام مجرم کی طرح سماعت کا نوٹس دینا ناقابلِ قبول ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کا عمل انتخابی کمیشن اور حکمراں جماعت کے اشارے پر بنگال کو بدنام کرنے اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہے، جو ریاستی وقار کے خلاف ہے۔






