
ادھر دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے کو لے کر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے واقعات سے عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جب جمہوری اداروں کی غیر جانبداری پر سوال اٹھنے لگیں تو خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں ہوتا۔
تنازعہ بڑھنے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی، جس میں کہا گیا کہ یہ ایک محض دفتری غلطی تھی جسے فوری طور پر درست کر لیا گیا۔ کمیشن کے مطابق کیرالہ بی جے پی نے حال ہی میں ایک پرانی ہدایت نامے کی نقل جمع کرائی تھی، جس پر ان کی مہر لگی ہوئی تھی اور اسی دستاویز کو غلطی سے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھیج دیا گیا۔






