
ووٹ چوری کے انہی الزامات کے درمیان الیکشن کمیشن نے ووٹر شناخت اور لسٹ میں شفافیت بڑھانے کے لیے ایک نیا تکنیکی اقدام شروع کیا ہے۔ کمیشن نے اپنے ای سی آئی نیٹ پورٹل اور درخواستوں پر پر الیکٹرانک دستخط فیچر متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اب کسی بھی ووٹر کو ریکارڈ میں شامل کرنے، نام حذف کرنے یا ترمیم کرنے کے لیے اپنی شناخت موبائل نمبر اور آدھار کے ذریعے تصدیق کرنا لازمی ہوگا۔ اس اقدام سے ووٹ حذف کے عمل کو محفوظ بنانے اور دھوکہ دہی کے امکانات کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
دراصل، راہل گاندھی نے کرناٹک کے آلند انتخابی حلقے میں تقریباً 6,000 ووٹ دھوکہ دہی کے ذریعے ہٹائے جانے کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ زیادہ تر درخواستیں جمع کرنے کے لیے اصل ووٹرز کی شناخت کا غلط استعمال ہوا اور فارم جمع کرنے کے لیے استعمال شدہ فون نمبر بھی ان ووٹروں کے نہیں تھے جن کے نام پر فارم بھرے گئے تھے۔






