اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین یا کسی دوسرے اہلکار پر یکطرفہ پابندیاں لگانا قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’رکن ممالک کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی رپورٹوں سے اختلاف رکھیں یا ان پر رائے دیں لیکن ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کے نظام سے جڑے رہیں اور اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کا احترام کریں۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ فرانسیسکا البانیز سمیت تمام خصوصی نمائندے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی طرف سے مقرر کیے گئے آزاد ماہرین ہوتے ہیں۔ یہ ماہرین اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو رپورٹ نہیں کرتے، نہ ہی ان کے کام پر جنرل سیکریٹری کا کوئی اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ ان ماہرین کا براہ راست تعلق جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل سے ہوتا ہے، جس کے تحت وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔