اقتدار کی راہداریوں سے لکھی گئی یادداشت اور حقائق کی کسوٹی

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 18, 2026359 Views


اس خودنوشت کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے جو بتاتی ہے کہ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص خود کو اور اپنے ملک کو کیسے دیکھتا ہے، مگر اسے بغیر تصدیق کے قابل اعتماد تاریخی ریکارڈ ماننے سے گریز کرنا چاہیے۔

فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

تاریخی شہر دہلی کے تہذیبی اور فکری منظرنامے پر آٹھ دہائیوں سے دو مسلم خاندانوں کی نمایاں چھاپ رہی ہے: دہلوی اور صدیقی۔

محمد یوسف دہلوی کی قیادت میں دہلوی خاندان نے اپنے عہد کی سب سے اثرانگیز اردو مطبوعات پیش کیں۔

ان کے بیٹوں یونس دہلوی، ادریس دہلوی اور الیاس دہلوی نے شمع، شبستان، بانو اور کھلونا جیسے رسائل جاری کیے، جنہوں نے برصغیر میں اردو کی مقبول ثقافت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

یونس دہلوی کی بیٹی سعدیہ دہلوی بعد میں ایک نمایاں مصنفہ اور تاریخ نویس کے طور پر ابھریں۔ لیکن ان کا عروج جتنا تیز تھا، زوال بھی اتنی ہی سرعت سے آیا۔

سرورق متعلقہ رسالے

ان کے آبائی علاقے لال کنواں کے دوسرے کنارے پر بلی ماران کا محلہ ہے، جہاں صدیقی خاندان آباد رہا۔

دونوں محلوں کو گلی قاسم جان آپس میں جوڑتی ہے، جو معروف شاعر مرزا غالب کا مسکن بھی  رہا۔

اس خاندان کی قیادت مولانا عبدالوحید صدیقی کے ہاتھ میں تھی، جو ایک صحافی اور تحریک آزادی کے کارکن تھے۔

انہوں نے ہما، ہدیٰ، پاکیزہ آنچل اور نئی دنیا جیسے کئی اردو رسائل جاری کیے۔ ہما کو کبھی ریڈرز ڈائجسٹ کا ہم پلہ سمجھا جاتا تھا۔

شاہد صدیقی مرحوم مولانا وحید کے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔

سرورق متعلقہ رسالے

دہلوی خاندان زیادہ تر صحافت اور اشاعت کے میدان تک محدود رہا، لیکن شاہد صدیقی نے صحافت، جماعتی سیاست، سفارت کاری تک سفر کیا۔

ان کی انگریزی میں تحریر کرہ تصنیف آئی، وٹنیس: انڈیا فرام نہرو ٹو نریندر مودی بیک وقت خودنوشت اور سیاسی داستان ہے۔

اور اس شخص کی ذاتی گواہی بھی، جس نے پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک صحافت، سیاست اور اقتدار کے ایوانوں کے درمیان سفر کیا۔ اس میں اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، پی وی نرسمہا راؤ، سونیا گاندھی، اٹل بہاری واجپائی اور یہاں تک کہ نریندر مودی سے ان کی ذاتی ملاقاتوں کا احوال شامل ہے۔

لیکن طاقت کے قریب رہنے والے لوگوں کی یادداشتوں اور واقعاتی قصوں پر مبنی بہت سی کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی قیمتی عینی واقعات سے مزین ہے۔ مگر مشتبہ دعوؤں، تضادات اور تاریخی لغزشوں کے درمیان جھولتی نظر آتی ہے۔

خصوصاً کشمیر سے متعلق اقتباسات ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے مصنف نے پیچیدہ تاریخ کو سنی سنائی باتوں، پرانی رنجشوں اور بعد کی یقینی تشریحات کی بنیاد پر مرتب کیا ہو، جبکہ اب بہت سا ریکارڈ عام دسترس میں آ چکا ہے۔

صفحہ 22 پر وہ مرکزی وزیر رفیع احمد قدوائی کا حوالہ دیتے ہیں، جو مبینہ طور پر اکتوبر 1947 میں وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو کشمیر میں فوج بھیجنے پر آمادہ کر رہے تھے۔ کتاب میں یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ نہرو فوج بھیجنے میں تذبذب کا شکار تھے اور قدوائی کی سخت وارننگ کے بعد ہی مہاراجہ ہری سنگھ کی استدعا کو قبول کرکے فوج بھیجی گئی۔

 قدوائی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے نہرو کو کہا کہ مسلم اکثریتی وادی کشمیر ہندوستان کا حصہ نہ بنی تو یہ ‘دو قومی نظریے کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا اور ہندوستان ایک ‘ہندو راشٹر’  بن جائے گا۔

یہ ایک ڈرامائی منظرنامہ ہے جو ایک مخصوص سیکولرتصور کو خوش کرتا ہے: کشمیر کو ہندوستان کی تکثیری امید کی دلیل کے طور پر پیش کرنا، اور یہ کشمیری مسلمانوں کو ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک اخلاقی حصار  یا ایک طرح سے یرغمال کے طور پر پیش کرنے جیسا ہے۔

لیکن اب دستیاب دستاویزی شواہد اس بیانیے سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ ریکارڈ بتاتے ہیں کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی درخواست پر باضابطہ فوجی تعیناتی سے بہت پہلے نہرو واضح کر چکے تھے کہ وہ کشمیر کو اپنے پاس رکھیں گے۔

گورداسپور کی تقسیم، پٹھانکوٹ کا ہندوستان کے حوالے ہونا تاکہ جموں و کشمیر سے زمینی ربط قائم ہو سکے، اور ستمبر میں نہرو کا گوپال سوامی آیانگر کو الحاق کی منظوری حاصل کرنے کے لیے کشمیر بھیجنا، یہ سب اب عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ دراصل سردار پٹیل ہی ابتدا میں کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کے لیے آمادہ نہیں تھے۔

مزید یہ کہ اگر کشمیر کو ہندوستان کو ہندو اکثریتی ریاست بننے سے بچانے کے لیے رکھا گیا تھا تو سات دہائیوں بعد ہندوستان کی موجودہ صورت حال خود اس دعوے پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہے۔ ہندوتوا کی قوتوں نے کشمیر کے باوجود ہندوستان کو عملاً ایک ہندو راشٹر کی سمت دھکیل دیا ہے۔

صفحہ 122 پر صدیقی 1983 کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہیں، جہاں فاروق عبداللہ نے میرواعظ مولوی فاروق کے ساتھ اتحاد میں انتخاب لڑا۔ چونکہ صدیقی کی ارون نہرو سے ذاتی رنجش دکھائی دیتی ہے، اس لیے وہ ان پر الزام رکھتے ہیں کہ انہوں نے جموں میں ہندو کارڈ کھیلا اور وادی میں مفتی محمد سعید کو استعمال کرتے ہوئے مسلم اور علیحدگی پسند کارڈ چلایا۔

یہ بیان خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کشمیر کے باب میں کتاب کی تحقیق کتنی سطحی ہے۔ ان دنوں وادی میں طاقتور نیشنل کانفرنس کے مقابلے میں مفتی محمد سعید کوئی بڑی سیاسی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ کارڈ خود اندرا گاندھی نے استعمال کیا، نہ کہ محض ان کے مشیروں نے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے وہ نو دن تک جموں میں مقیم رہیں اور عملاً وہاں ایک  عارضی وزیر اعظم آفس بھی قائم کیا گیا تھا۔

فاروق عبداللہ کے ساتھ اندرا گاندھی کی انتہائی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ سری نگر کے اقبال پارک میں ایک عوامی جلسے کے دوران نیشنل کانفرنس نے محمد شفیع بھٹ کی قیادت میں غنڈوں کی ایک ٹیم کو ان کا جلسہ درہم برہم کرنے کےلیے بھیجا تھا۔ شفیع بھٹ بعد میں رکن پارلیامان بنے اور موجودہ بی جے پی رہنما حنا بھٹ کے والد ہیں۔

ان غنڈوں نے اگلی نشستوں پر قبضہ کر لیا۔ جیسے ہی اندرا نے تقریر شروع کی، شفیع بھٹ اور ان کے ساتھیوں نے اپنے پاجامے کھول کر انہیں اپنے پوشیدہ اعضا  دکھاتے ہوئے طعنے دیے۔

اندرا نے اپنا توازن نہیں کھویا۔ انہوں نے برجستہ کہا کہ مرکز کشمیر کو اتنا پیسہ بھیج رہا ہے کہ لگتا ہے نیشنل کانفرنس کی حکومت لوگوں کو کپڑے بھی فراہم نہیں کر پا رہی ہے۔ لیکن یہ توہین اور وہ لمحہ اپنی جگہ اہم تھا۔ ان کے ساتھ موجود لوگوں کے مطابق، وہ بالکل خاموش ہو گئیں تھی۔

مزید پروگرام ملتوی کرکے وہ  سیدھے ہوائی اڈے پہنچ کر دہلی روانہ ہوگئیں۔ چند دن بعد جموں میں وارد ہوکر انتخابات کو پولرائز کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔ اس فرقہ وارانہ اور علاقائی پولرائزیشن کا سایہ آج تک جموں و کشمیر کی سیاست پر منڈلا رہا ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

یہ محض ارون نہرو کی کوئی چال نہیں تھی، بلکہ عوامی تذلیل کے بعد اعلیٰ ترین سطح پر لیا گیا ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ فاروق عبداللہ انتخاب جیت بھی گئے تو ایک سال بعد اندرا گاندھی نے انہیں برطرف کر کے ان کے بہنوئی غلام محمد شاہ کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔

صدیقی اس کے برعکس ایک مختلف بیانیہ پیش کرتے ہیں اور پھر اس میں ایسے دعوے شامل کر دیتے ہیں جو زمانی ترتیب سے مطابقت نہیں رکھتے۔

وہ لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں ارون نہرو کشمیر میں عسکریت پسندوں سے میل جول بڑھا رہے تھے۔ حالانکہ اس وقت کشمیر میں نہ کوئی مسلح تحریک تھی اور نہ ہی وہ مضبوط علیحدگی پسند جذبات جو بعد میں دیکھنے کو ملے۔ ان کی شدت 1987 کے دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد سامنے آئی۔ 1983 میں ‘عسکریت پسندوں’ کو تاریخ میں شامل کرنے سے یہ باب یا تو مکمل من گھڑت لگتا ہے یا کم از کم زمانی تسلسل کے بارے میں شدید لاپروائی کا مظہر ہے۔

اسی نوعیت کی خرابی صفحہ 166 پر بھی دہرائی گئی ہے، جہاں صدیقی لکھتے ہیں کہ انہوں نے میرواعظ مولوی محمد فاروق کی مدد سے روبیہ سعید کی رہائی کے لیے ثالثی کی۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی بھاری قیمت انہیں چکانی پڑی کیونکہ ان کے مقبول اخبار ‘نئی دنیا’ پر جے کے ایل ایف اور لشکر طیبہ نے پابندی لگا دی۔ حالانکہ نوے کی دہائی کے اوائل میں کشمیر میں لشکر طیبہ کا وجود ہی نہیں تھا۔

صدیقی لکھتے ہیں کہ راجیو گاندھی نے انہیں بتایا تھا کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ کشمیر کا مستقل حل طے کر لیا ہے۔ مبینہ طور پر بے نظیر لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے پر آمادہ ہو گئی تھیں، اور دونوں طرف سے بڑی تعداد میں فوجیں ہٹا لی جاتیں۔

صدیقی کے مطابق راجیو سمجھتے تھے کہ پرامن سرحدیں ہندوستان کی صلاحیتوں کو ابھرنے کا موقع دیں گی اور جنوبی ایشیا کی اکیسویں صدی اس کے عوام کی صدی بن سکتی ہے۔

صفحہ 229 پر صدیقی جنرل پرویز مشرف سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی صدر کو دوٹوک انداز میں کہا؛

‘آپ کو سمجھنا ہوگا کہ ہندوستان مسلمان کشمیر میں آپ کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔’

لیکن وہ یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں کون لے کر گیا تھا، اور الحاق کی دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے کس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ امن و امان بحال ہونے کے بعد فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے گا۔

صفحہ 235 پر وہ لکھتے ہیں کہ فروری 2003 میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کلدیپ نیر اور انہیں بلا کر مشورہ دیا کہ وہ مشرف کے دور میں پاکستان جا کر عوامی فضا کا اندازہ لگائیں۔

صدیقی کے مطابق ان کی واپسی کے ایک ماہ بعد ہی واجپائی سرینگر گئے اور مظفر آباد بس سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ جس نے ان کو حیران کردیا۔

مگر حقائق بتاتے ہیں کہ سری نگر-مظفرآباد بس 7 اپریل 2005 کو شروع ہوئی، اور اسے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جھنڈی دکھائی، جبکہ واجپائی ایک سال پہلے اقتدار سے جا چکے تھے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ واجپائی نے  سرینگر میں اپنی تقریر میں انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔

صفحہ 7 پر صدیقی لکھتے ہیں کہ مولانا شبیر احمد عثمانی’واحد ممتاز دیوبندی عالم تھے جو پاکستان ہجرت کر گئے۔’ وہ سید سلیمان ندوی، مولوی عبدالحق اور کئی دیگر شخصیات کا ذکر بھول جاتے ہیں۔

کتاب میں بار بار ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں بڑے عمومی بیانات دیے گئے ہیں، اور یہاں بھی تضاد نظر آتا ہے۔ صفحہ 41 پر 1965 کی جنگ کے حوالے سے صدیقی لکھتے ہیں؛

‘ہندوستانی مسلمانوں کے لیے یہ قوم سے وفاداری کا بڑا امتحان تھا… اور انہوں نے یہ امتحان شاندار طریقے سے پاس کیا۔’

ان کے مطابق، تقسیم کے بعد ان کی وفاداری پر ہمیشہ شبہ کیا گیا، اور جنگ ایک موقع بن گئی کہ وہ اپنا موقف واضح کریں۔ وہ لکھتے ہیں کہ؛’ہر شہر اور قصبے’ میں مسلمان پاکستانی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی تیاریوں میں شریک تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2019 میں پلوامہ حملے اور پاکستان کے اندر ہندوستانی کارروائیوں کے بعد بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملے۔

لیکن صفحہ 65 پر وہ خود اپنے اس عمومی دعوے کو کمزور کر دیتے ہیں، جب وہ ستر کی دہائی کے اوائل میں اپنے اردو ہفت روزہ واقعات کی ناکامی کا ذکر کرتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ رسالہ اس لیے نہیں چلا کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا، جبکہ شمالی ہند کے مسلمانوں کا ایک حصہ پاکستان کے لیے ‘نرم گوشہ’ رکھتا تھا اور وہ اس کے ٹوٹنے کے خواہاں نہیں تھے۔ وہ مسلمانوں پر الزام لگاتے ہیں کہ؛

‘وہ اب بھی پاکستان یا جناح سنڈروم کا شکار تھے۔’

وہ مزید لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ایک مضبوط پاکستان ہندوستان میں مسلم مخالف گروہوں کو مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے روکتا ہے۔ چونکہ ان کے رسالے نے بنگلہ دیش کے قیام کی حمایت کی اور پاکستانی فوج کے مظالم کی مذمت کی، اس لیے ‘قارئین کو یہ بات پسند نہ آئی’ اور انہیں بھاری مالی نقصان اٹھا کر رسالہ بند کرنا پڑا۔

دونوں بیانات کو ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو کتاب ایک ایسے تضاد میں گھری نظر آتی ہے جسے کہیں حل نہیں کیا گیا۔

بنگلہ دیش کی آزادی اور شملہ معاہدے کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ ان کی طرح ملک کے کئی نوجوان اس سے خفا تھے اور پاکستان کے خلاف کاروائی جاری رکھنا چاہتے تھے۔ مگر بعد میں انہوں نے پایا کہ نو آزاد  بنگلہ دیش میں ہندوستان مخالف بیانیہ پھیلنے لگا تھا۔ اندرا گاندھی چاہتی تھیں کہ ڈھاکہ میں ایک مضبوط قیادت قائم ہو جو مکتی باہنی کے مسلح گروہوں کو قابو میں رکھ سکے، کیونکہ ان کے بے قابو ہونے کا خطرہ موجود تھا، جو شمال-مشرقی علاقوں میں پھیل کر مغربی بنگال اور آسام میں مشکلات پیدا کر سکتے تھے۔ شاید وہ ایسی صورتحال جو بعد میں امریکہ اور پاکستان کو افغانستان میں پیش آئی اس سے بچنا چاہتی تھی۔ وہ مانتی تھی کہ اسلحہ دینا آسان ہوتا ہے، مگر اسے واپس لینا مشکل ہوتا ہے۔

صدیقی کے مطابق، اندرا گاندھی نے ہندوستان کے لیے ایسی صورت حال کو پیدا ہونے سے روک دیا۔


صدیقی لکھتے ہیں کہ انہوں نے 1973 میں دہلی یونیورسٹی سے ماسٹرز کرتے ہوئے اپنے والد کا اخبار نئی دنیا دوبارہ جاری کیا۔ ان کے بقول یہ ٹیبلوئڈ’اردو صحافت میں انقلاب’ لے آیا۔ مگر حقیقت ہے کہ یہ اخبار چیختی چنگھاڑتی سرخیوں اور جذباتی مضامین کےلیے مشہور تھا۔


اس سے اخبار تو ہاتھوں ہاتھ بکتا رہا، مگر قارئین کو حقیقت کا متوازن عکس نہیں ملا، بالکل ویسا ہی جیسے آج کے بعض ٹی وی چینل کرتے ہیں۔ اخبار جذبات اور سنسنی خیز کہانیوں کے سہارے چلتا رہا، نہ کہ سنجیدہ تجزیے کے ذریعے جو صدیقی خاندان سے توقع تھی۔

یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ کتاب میں اور ذاتی بات چیت میں صدیقی جذباتی سیاست سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر وہ اپنے اخبار کے ذریعے اسی طرز کی صحافت کو فروغ دیتے رہے۔

شاہد صدیقی، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

صدیقی لکھتے ہیں کہ 1977 میں انہوں نے جنتا حکومت کے وزیر خزانہ ایچ این بہوگنا کا انٹرویو کیا۔ بہوگنا نے مبینہ طور پر ان سے کہا؛

’شاہد میاں، یہ حکومت زیادہ نہیں چلے گی۔ ہم نے اس گجراتی (مرارجی دیسائی) کو وزیر اعظم بنا کر غلطی کی ہے۔‘

ان کے مطابق، حکمرانی دراصل اتفاق رائے پیدا کرنے کا فن ہے، اور گجراتی وزیر اعظم کو اس لفظ کا مطلب تک معلوم نہیں ہے۔

کتاب میں دہلی کے ایک اور کردار مولانا جمیل الیاسی کا ذکر بھی آتا ہے۔ ان کے خاندان نے کستوربا گاندھی مارگ کے چوراہے پر واقع ایک مسجد پر ‘قبضہ’ کر  رکھا ہے۔ ان کے بیٹے صہیب الیاسی نے بعد میں نماز گاہ کے ساتھ والے کمرے میں ایک ٹی وی کرائم شو کا دفتربھی قائم کیا تھا۔

مولانا ایک بار جب اندرا گاندھی اقتدار سے باہر تھی نئی دنیا کے لیے صفحہ اول کی خبر دینے کا وعدہ کرتے ہوئے صدیقی کے پاس آئے۔  انہوں نے بتایا کہ وہ اندرا گاندھی کو مہرولی میں خواجہ بختیار کاکی کے مزار پر دعا کے لیے لے گئے تھے۔

مولانا نے دعویٰ کیا کہ وہ بھی رات بھر اندرا کے ساتھ مہرولی کی درگاہ میں موجود تھے۔ اندرا گاندھی نے رات بھر وظیفہ پڑھا اور پھر ایک کدو کو ایک چاقو سے کاٹا، جس پر کلمہ شریف لکھا تھا۔

مولانا نے دعویٰ کیا کہ جنات کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مرارجی دیسائی کی حکومت گرا دیں۔

صدیقی لکھتے ہیں،میں نے ایک لمحے کے لیے بھی مولانا کی بات پر یقین نہیں کیا… مگر حقیقت ہے، چند ہی ہفتوں میں جنتا حکومت گر گئی۔

صفحہ 175 پر صدیقی لکھتے ہیں کہ 1989 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد، جب کانگریس نشستیں کھو کر بھی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، تو صدر کے آر نرائنن نے اسے حکومت بنانے کی دعوت دی اور راجیو نے انکار کر دیا۔ حالانکہ ایک سادہ سی گوگل تلاش بھی بتاتی ہے کہ نرائنن 1997 سے 2002 تک صدر رہے۔ 1989 میں صدر آر وینکٹرمن تھے۔

کتاب میں چند سنسنی خیز دعوے بھی ہیں۔ صفحات 182 سے 184 کے درمیان صدیقی راجیو گاندھی کے قتل سے متعلق ایک سازش کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یاسر عرفات کو یورپ میں اس سازش کی بھنک پڑ گئی تھی۔  فلسطینی سفیر خالد الشیخ نے راجیو سے رابطہ کیا، آر ڈی ایکس کی خریداری کی معلومات تھیں، اور ‘بظاہر موساد’ کسی طرح اس میں شامل تھی، جس کے روابط ایل ٹی ٹی ای سے تھے۔

انہوں نے لکھا کہ یہ انتباہ وزیر اعظم تک پہنچایا گیا، مگر انہوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ صدیقی کے مطابق راجیو کے ماسکو اور ایران کے دوروں اور خلیجی جنگ روکنے کے لیے بغداد جانے کے منصوبے نے امریکہ اور اسرائیل کو ناراض کر دیا تھا۔

بابری مسجد کے باب میں کتاب کا شاید سب سے سخت اور تلخ سیاسی بیان ملتا ہے۔ صفحہ 205 پر صدیقی لکھتے ہیں کہ انہدام کی خبر ملنے پر انہوں نے چند مسلم رہنماؤں کے ساتھ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور صدر ایس ڈی شرما سے فوری رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر انہیں بتایا گیا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ دستیاب نہیں ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ صدر نے سہ پہر ساڑھے تین بجے کا وقت دیا ، جذباتی تھے، اور وہ بھی وزیر اعظم سے رابطہ نہ کر سکے۔

صدیقی کے مطابق ایک سینئر وزیر ارجن سنگھ اور راجیش پائلٹ نے ان کو بتایا کہ اس دوپہر وزیر اعظم نے کابینہ کے وزیروں سے ملنے یا بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ ‘یا تو پوجا میں مصروف ہیں یا سو رہے ہیں۔’
صدیقی نتیجہ اخذ کرتے ہیں؛

یہ سب منصوبے کا حصہ تھا، اور راؤ جانتے تھے کہ ایودھیا میں کیا ہو رہا ہے اور چاہتے تھے کہ مسجد کا انہدام بلا کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔

صفحہ 243 پر صدیقی فخر سے لکھتے ہیں کہ 1999 کے انتخابات کے دوران انہوں نے سونیا گاندھی کو مشورہ دیا تھا کہ منموہن سنگھ کو یو پی اے اتحاد کا وزیر اعظم امیدوار بنایا جائے۔ حالانکہ یو پی اے مئی 2004 میں وجود میں آیا، جب انتخابات کے بعد مخلوط حکومت بنی۔ 1999 میں کوئی یو پی اے موجود نہیں تھا۔

کتاب کے آخری ابواب صدیقی کو مودی کے دور میں لے آتے ہیں۔ صفحہ 278 پر وہ ظفر سريش والا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مودی نے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی عرب ممالک کے ساتھ قریبی کاروباری تعلقات بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، انہیں وائبرنٹ گجرات میں مدعو کیا، اور 2014 کے بعد ذاتی روابط مزید گہرے کیے۔

صدیقی کا مودی کا انٹرویو بھی خاصا موضوع بحث بنا، جب 2012 میں انہوں نے نئی دنیا کےلیے ان کا انٹرویو لیا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے مشیر احمد پٹیل نے یہ انٹرویو  شائع کرنے سے روکنے کی ان سے درخواست کی تھی۔

صدیقی ان دنوں سماج وادی پارٹی کے لیڈران میں شمار کیے جاتے تھے۔ احمد پٹیل کی ایما پر سماج وادی پارٹی نے ان کو برخاست کردیا۔

نریندر مودی۔ (تصویر بہ شکریہ: پی آئی بی)

صدیقی امت شاہ سے اپنی ایک ملاقات کا ذکر بھی کرتے ہیں، جس میں انہوں نے بی جے پی کی مسلم پالیسی پر بات کی۔ ان کے مطابق شاہ نے کہا کہ وہ فی الحال مسلم ووٹوں میں دلچسپی نہیں رکھتے اور بعد میں شاید اس پر غور کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا،’انتخابات اچھے کام سے نہیں، جذبات سے جیتے یا ہارے جاتے ہیں۔’

صدیقی کے مطابق شاہ نے مثال دی کہ شیلا دکشت ‘بہترین کارکردگی’ کے باوجود دہلی میں انتخاب ہار گئیں کیونکہ فضا ان کے خلاف ہو چکی تھی۔

صدیقی نے کتاب میں ارون نہرو، امر سنگھ اور احمد پٹیل جیسے کرداروں کو اقتدار کے سوداگر قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، مگر خود وہ کبھی کوئی عوامی انتخاب نہیں جیت سکے۔ 2009 میں بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر بجنور سے انہوں نے سب سے قریبی مقابلہ کیا، جب وہ راشٹریہ لوک دل کے سنجے سنگھ چوہان سے 28 ہزار 430 ووٹوں سے ہار گئے۔ 1998 میں کانگریس کے ٹکٹ پر مظفر نگر سے لڑے، جہاں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی مہم کے باوجود وہ 69 ہزار 788 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر رہے۔

کتاب میں کچھ نظریاتی دعوے بھی ہیں جو صدیقی کی فکری دنیا کو واضح کرتے ہیں۔ صفحہ 325 پر وہ لکھتے ہیں؛

‘میں نے مذہبی لوگوں کو زیادہ معقول، لچک دار اور برداشت کرنے والا پایا، جبکہ انگریزی تعلیم یافتہ لوگ، جیسے سابق آئی ایف ایس سید شہاب الدین یا اشوک سنگھل، زیادہ سخت گیر اور غیر لچک دار تھے۔’

یہ بات وہ بابری مسجد مذاکرات کے تناظر میں لکھتے ہیں۔

صفحہ 326 پر وہ موہن بھاگوت اور بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہندوستانی اسلام دراصل ‘ہندی اسلام’ کے طور پر پروان چڑھا، جس میں دوسرے مذاہب کے احترام اور باہمی میل جول کی روایت ہے، اور جو ہندو اور ترک و فارسی اثرات کا امتزاج ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ بھاگوت نے ان سے کہا کہ ہندوؤں کو کافر کہنا بند کریں، کیونکہ یہ حقارت کی علامت ہے۔

صفحہ 342 پر صدیقی لکھتے ہیں کہ 1996 میں وزیر اعظم دیوے گوڑا نے، جب ان کے پاس وزارت داخلہ بھی تھی، سی بی آئی کو اس وقت کے کانگریسی صدر سیتارام کیسری پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، جو ڈاکٹر ایس کے تنور کے قتل کے مقدمے میں زیر تفتیش تھے۔ حالانکہ گوڑا صرف 29 دن تک وزیر داخلہ رہے، اور 29 جون 1996 کو اندر جیت گپتا نے یہ عہدہ سنبھال لیا تھا۔

کتاب میں کئی دلچسپ واقعات بھی شامل ہیں اور مصنف ہندوستان میں خاندانی سیاست کی تاریخ کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

صدیقی کے مطابق کے کامراج اور بیجو پٹنائک نے خاندانی سیاست کو فروغ دیا، نہرو کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے نہرو پر اندرا کو کابینہ میں شامل کرنے کا دباؤ ڈالا، مگر نہرو نے انکار کر دیا۔ نہرو کی وفات کے بعد، ان کے بقول، ہندوستان نے ‘اپنی خودی قائم نہ رکھی’ اور شاستری اور کامراج نے اندرا کو کابینہ میں آنے پر آمادہ کیا۔

اس خودنوشت کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے جو بتاتی ہے کہ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص خود کو اور اپنے ملک کو کیسے دیکھتا ہے، مگر اسے بغیر تصدیق کے قابل اعتماد تاریخی ریکارڈ ماننے سے گریز کرنا چاہیے۔

صدیقی اقتدار کے قریب ضرور رہے، مگر اس کتاب میں وہ قربت بار بار درستگی کی جگہ لے لیتی ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...