پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر جاری کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس درمیان ہفتہ (28 فروری) کو افغان فورسز نے دعویٰ کیا کہ جلال آباد شہر میں ایک پاکستانی لڑاکا طیارہ کو مار گرایا گیا۔ ساتھ ہی ان لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارہ مار گرائے جانے کے بعد اس کے پائلٹ کو زندہ پکڑ لیا گیا ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ میں افغان فوج اور پولیس ذرائع کے مطابق ایک پاکستانی طیارہ ہفتہ کو جلال آباد کے ایک ضلع میں حادثہ کا شکار ہو گیا۔ عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ پائلٹ نے طیارہ سے پیراشوٹ کی مدد سے چھلانگ لگائی اور پھر اسے حراست میں لے لیا گیا۔
جلال آباد کے پولیس ترجمان طیب حماد نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’جلال آباد شہر کے چھٹے ضلع میں ایک پاکستانی لڑاکا طیارے کو مار گرایا گیا اور اس کے پائلٹ کو زندہ پکڑ لیا گیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی مشرقی افغانستان میں فوج کے ترجمان وحید اللہ محمدی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ ترار نے جمعہ کی دیر رات جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا کہ سیکورٹی فورسز نے 297 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ 450 سے زائد افغان جوان زخمی ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’آپریشن غضب للحق‘ کے دوران پاکستان نے افغان فورسز کی 89 چوکیوں کو تباہ کر دیا اور 18 دیگر پر قبضہ کر لیا۔ اسی کے ساتھ تقریباً 135 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔
پاکستانی وزیر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستانی فضائیہ نے پورے افغانستان میں تقریباً 29 مقامات کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا ہے۔ افغانستان کی جانب سے سرحد پر بیک وقت 53 مقامات پر حملوں کے بعد، پاکستان نے ’آپریشن غضب للحق‘ کے نام سے جوابی کارروائی شروع کی ہے۔ دوسری جانب پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے جمعہ کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کو پاکستان اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































