
غلام کو ان چار زمروں میں سب سے نیچے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ نچلے درجے کے افراد کو جیل اور جسمانی سزا دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’روادری‘ کے مطابق علما اگر جرم کریں گے تو ان کی صرف کونسلنگ کی جائے گی، جب کہ نچلے درجے کے عہدوں پر فائز افراد کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ طالبان انتظامیہ نے اپنے معاشرے کو چار زمروں میں تقسیم کیا ہے اور ان کو اس طرح تقسیم کیا گیا ہے علماء، اشراف، متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ۔





