
رپورٹس کے مطابق 26 مارچ سے 6 اپریل کے درمیان ہونے والی موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں کئی صوبوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، جس سے سینکڑوں دیہات زیرِ آب آ گئے۔ اس آفت کے باعث 9 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے کئی مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
زرعی شعبہ بھی اس تباہی سے شدید متاثر ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 15 ہزار 500 ایکڑ سے زائد زرعی زمین برباد ہو گئی، جس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں خوراک کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مزید برآں 500 سے زائد مویشیوں کی ہلاکت نے دیہی معیشت پر منفی اثر ڈالا ہے، کیونکہ وہاں کے بیشتر خاندان کھیتی باڑی اور مویشی پالنے پر انحصار کرتے ہیں۔






