
اعظم خان نے یہ بھی کہا کہ ‘ہمیں مستقبل میں بھی حکومت بنانے کی امید ہے، فرق صرف اتنا ہوگا کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ حکومت کا کام کیا ہے، ہم تو بس اتنا سمجھتے تھے کہ وہاں بیٹھے آخری شخص کی آنکھیں دیکھیں کہ وہ کیسے نم ہیں، اگر آنسو ہیں تو انہیں پونچھیں، اگر وہ بے بس ہیں تو حکومت اس کا سہارا بنے، ہمیں نہیں معلوم تھا کہ حکومت کا کام ان کے خاندانوں کو تباہ کرنا ہے۔‘‘






