
اسی ویڈیو کو انہوں نے یوٹیوب پر بھی شیئر کیا اور کیپشن میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب مین اسٹریم میڈیا نے بہوجن برادری کی آواز اور مسائل کو نظر انداز کر دیا تو یہ نوجوان اپنی ہمت پر یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم پر اپنی کمیونٹی کی تکالیف کو سامنے لانے لگے لیکن منو وادی طاقتیں اس کو بھی برداشت نہیں کر پاتیں اور ان پر جھوٹے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں، ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ جان سے مارنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ بہار کے ان نوجوانوں کی تکالیف سن کر دکھ ہوا کہ ہمارے بہادر بچے ایسی اذیتیں جھیل رہے ہیں لیکن ساتھ ہی فخر بھی ہے کہ دباؤ اور خطرات کے باوجود یہ نوجوان سچ بولنے سے باز نہیں آتے۔ ان کے مطابق یہ صرف بہوجن برادری کی لڑائی نہیں بلکہ ہندوستان کی جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کا بھی سوال ہے۔






