
اب اصل مسئلہ حدبندی کا ہے۔ حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی واضح خاکہ پیش نہیں کیا گیا لیکن یہ اشارے ضرور مل رہے ہیں کہ حدبندی کی کوئی صورت زیرِ غور ہے۔ ماضی کی طرح، حدبندی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ لیکن اگر اس عمل کے نتیجے میں لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ ہوتا ہے، تو یہ فیصلہ صرف ریاضیاتی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی اور علاقائی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔
خاندانی منصوبہ بندی میں کامیاب اور چھوٹی ریاستوں کو کسی بھی صورت نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر صرف آبادی کی بنیاد پر نشستیں بڑھائی گئیں تو بڑے اور تیزی سے بڑھنے والے صوبوں کا اثر بڑھ جائے گا جبکہ چھوٹے اور مستحکم آبادی والے صوبے پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نشستوں میں اضافہ ہونے کے باوجود بعض ریاستوں کا اثر و رسوخ کم ہو جائے، کیونکہ مطلق اعداد و شمار کا فرق بڑھ جائے گا۔
محتاط غور کی ضرورت
ناری شکتی وندن ادھینیم، 2023 میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے اندر بھی ریزرویشن کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے مخصوص نشستوں میں بھی خواتین کے لیے ایک تہائی حصہ ہوگا۔






