
اقربا پروری اور مخصوص کاروباری گروہوں کو ترجیح دینے سے سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوتا ہے۔ جب پالیسی سازی میں جانبداری کا تاثر پیدا ہوتا ہے تو غیر یقینی کیفیت بڑھتی ہے اور سرمایہ کا انخلا شروع ہو جاتا ہے۔ بلند اثاثہ جات رکھنے والے افراد کا بیرون ملک منتقل ہونا اسی رجحان کی علامت ہے۔
حقیقی اصلاحات وہ ہوں گی جو سب کو یکساں مواقع فراہم کریں، غیر رسمی شعبے کو مضبوط بنائیں، اور تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ میں سرکاری سرمایہ کاری بڑھائیں۔ فی الحال ایک ایسا چکر چل رہا ہے جس میں نظام سے فائدہ اٹھانے والے مزید مراعات حاصل کر رہے ہیں، جبکہ محروم طبقات مزید پیچھے جا رہے ہیں۔ یہی بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی بنیاد ہے۔ اگر اصلاحات کا مقصد وسیع تر عوامی فلاح نہیں، تو محض معاشی اعداد و شمار میں بہتری دیرپا ترقی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
(مضمون نگار ارون کمار جے این یو میں معاشیات کے پروفیسر رہ چکے ہیں)






