
بہرحال یہ سراسر غیر انسانی کارروائی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مظلوموں کے صبر کا امتحان نہ لے۔ جو لوگ مسلمانوں کے خلاف انہدامی کارروائی پر چپ تھے یا خوش ہو رہے تھے، انھیں اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ وہ جس حکومت کو اپنی حکومت سمجھتے تھے اب وہی ان کی دشمن بن گئی ہے۔ بابا کا بلڈوزر کہہ کہہ کر جو لوگ خوشیاں منا رہے تھے اب وہ بھی اسی بلڈوزر کی زد پر ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر نواز دیوبندی کا یہ قطعہ یاد آرہا ہے:
جلتے گھر کو دیکھنے والو، پھونس کا چھپر آپ کا ہے،
آگے پیچھے تیز ہوا ہے، آگے مقدر آپ کا ہے۔
اس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا،
میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہو، اگلا نمبر آپ کا ہے۔





