اسٹریٹجک خود مختاری یا اسٹریٹجک علیحدگی؟… گردیپ سنگھ سپّل

AhmadJunaidJ&K News urduApril 6, 2026359 Views


رشتوں کو مضبوط اتحادوں میں بدلنے میں ملی ناکامی کا ہندوستان کو بڑا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ اسٹریٹجک خود مختاری کا اس کا دعویٰ کھوکھلا لگتا ہے، اور خارجہ پالیسی معاملہ میں اس کی تنہائی تلخ حقیقت ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پی ایم مودی کی فائل تصویر</p></div><div class="paragraphs"><p>پی ایم مودی کی فائل تصویر</p></div>

i

user

اسٹریٹجک ناکامی ہمیشہ ڈھول نہیں پیٹتی۔ یہ اقوام متحدہ میں خاموشی کی صورت میں، مذاکرات کی میزوں سے غیر حاضری کی صورت میں، اور ان تعلقات کے آہستہ آہستہ سرد پڑ جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جنہیں کبھی معمولی سمجھ لیا گیا ہوتا ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ نقصان اس قدر جمع ہو چکا ہوتا ہے کہ صاف صاف نظر آنے لگتا ہے۔ ہندوستانی اسٹریٹجی (حکمت عملی) کے معاملے میں مارچ 2026 اسی تلخ حقیقت کا احساس کرانے والا ثابت ہوا۔

آزادی کے بعد ہندوستان نے خود کو سب سے اہم ’سوئنگ اسٹیٹس‘ (فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے ممالک) میں سے ایک کے طور پر، تہذیبوں کے درمیان ایک پل کے طور پر، اور ’گلوبل ساؤتھ‘ کے فطری رہنما کے طور پر پیش کیا تھا۔ آج، اس کی سرحدوں پر اس کا کوئی دوست نہیں ہے۔ موجودہ دور کے سب سے فیصلہ کن تنازعہ میں وہ محض ایک تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔ جس سپر پاور کے ساتھ اس نے اپنے تعلقات سنوارے تھے، اسی نے تجارت کے معاملے میں اسے دباؤ میں لے رکھا ہے۔ وہ ’برکس‘ گروپ کی صدارت کر رہا ہے، جس سے اس نے صاف طور پر اپنی راہیں الگ کر لی ہیں۔ نریندر مودی حکومت کا خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ’اسٹریٹجک خود مختاری‘ اب ’اسٹریٹجک تنہائی‘ زیادہ نظر آ رہا ہے۔

پاکستان کی اسٹریٹجک بحالی

یہ سمجھنے کے لیے کہ ہندوستان کتنا پیچھے ہٹ گیا ہے، اس کے سب سے بڑے مخالف کے سفر پر غور کریں۔ ابھی حال ہی میں 2018 میں، پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں تھا۔ طالبان، القاعدہ، لشکرِ طیبہ اور جیش محمد سے جڑے دہشت گرد فنڈنگ نیٹورکس کو پناہ دینے کے لیے بین الاقوامی برادری کے سامنے اسے عوامی طور پر شرمندہ ہونا پڑا تھا۔ اس کے حکام کو ایک ذلت آمیز 34 نکاتی ایکشن پلان سے گزرنا پڑا تھا۔ 2009 میں پاکستان نے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کا بائیکاٹ کر دیا تھا (جس کا وہ ایک بانی رکن ہے) کیونکہ وہ ہندوستان کے وزیر خارجہ کو ابو ظہبی میں 57 ممالک کے اس ادارے سے خطاب کرنے سے روکنے میں ناکام رہا تھا۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ 2011 میں اسامہ بن لادن پاکستان کی ملٹری اکیڈمی کے بالکل قریب، ایبٹ آباد میں رہتا ہوا پایا گیا تھا۔

یہ حالیہ برسوں کا پاکستان تھا۔ لیکن پھر کچھ تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ 2025 میں پہلگام حملہ کے بعد پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت حاصل کرنے کے لیے 182 ووٹ ملے۔ ہندوستان نے اس کے خلاف ووٹ دیا، لیکن اس کے ساتھ صرف 2 ہی ممالک کھڑے نظر آئے۔ آپریشن سندور، جسے مودی حکومت نے پاکستان کے اسٹریٹجک طور پر الگ تھلگ پڑنے کے ایک موقع کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی، کے بعد ان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر مدعو کیا۔ اب پاکستان ہی ترکی، مصر اور عمان کے ساتھ مل کر امریکہ-اسرائیل-ایران کے درمیان جاری جنگ میں دشمنی ختم کرنے کی کوشش میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ہر میز سے غیر حاضر

یہ جنگ عالمی معاملات میں ہندوستان کی خود اعلانیہ مرکزی حیثیت اور اس کے ’وشو گرو‘ ہونے کے دعووں کے لیے سب سے سخت آزمائش بن گئی ہے۔ ایران کے ساتھ ہندوستان کے ہزاروں سال پرانے تہذیبی تعلقات ہیں۔ اس نے ’انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور‘ کے ذریعہ وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے چابہار بندرگاہ میں بڑا سرمایہ لگایا تھا۔ امریکی پابندیاں لگنے سے پہلے، ایران کے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہندوستان ہی تھا۔ اور اس سب کے باوجود جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم شروع کی، تو ہندوستان نہ تو تشویش ظاہر کرنے والی آوازوں میں شامل تھا، نہ ہی ان ممالک میں جنہوں نے ’سیزفائر‘ (جنگ بندی) کا لفظ بولنے کی ہمت کی، اور اب نہ ہی وہ ثالثوں میں شامل ہے۔ حکومت نے اسے ’سوچی سمجھی خاموشی‘ کہا، لیکن دنیا نے اسے ایک صارف ملک کی خوشامد کے طور پر دیکھا۔

یہ اس طرح کی پہلی غیر حاضری نہیں ہے۔ اگست 2021 میں جب امریکی فوج افغانستان سے پیچھے ہٹی، نئی دہلی کو اس کے بعد ہونے والی بات چیت سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا۔ ہندوستان نے گزشتہ کچھ برسوں میں جنگ سے تباہ افغانستان کی تعمیر نو میں 3 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ لگایا تھا اور کابل میں اپنی مضبوط سفارتی موجودگی برقرار رکھی تھی۔ دوسری طرف پاکستان جنگ کے پورے 20 سالوں کے دوران طالبان کو پناہ دیتا رہا، ان کی پرورش کرتا رہا اور ان کے ساتھ مذاکرات کے راستے کھلے رکھے۔ پھر بھی مذاکرات کی میز پر روس اور چین کے ساتھ پاکستان موجود تھا، ہندوستان نہیں۔

ایک سپر پاور بننے کی خواہش رکھنے والے ملک کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ کسی نہ کسی اصول کے لیے کھڑا رہے۔ اس کے شراکت دار اور مخالف (دونوں ہی) اس کی پوزیشن اور وابستگیوں کو سمجھنے کے قابل ہونے چاہئیں، تاکہ وہ اسی کے مطابق اپنی اپنی حکمت عملی طے کر سکیں۔ گزشتہ تقریباً 5 برسوں کے دوران، ہندوستان کی خارجہ پالیسی نہ صرف مبہم رہی ہے بلکہ ایک پینڈولم کی طرح اِدھر اُدھر جھولتی بھی رہی ہے۔

2020 کے گلوان تصادم کے بعد مودی حکومت نے چینی ایپس اور ٹیلی کام کمپنیوں پر پابندی لگا دی تھی، لیکن جب معاشی دباؤ بڑھا تو اس نے خاموشی سے ان میں سے کئی پابندیاں ہٹا لیں۔ اس نے چین کے بڑھتے اثر کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک قدم کے طور پر ’کواڈ‘ گروپ (جس میں امریکہ، ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں) کو اپنایا، لیکن جب اس گروپ نے سیکورٹی کے معاملے میں زیادہ سخت رویہ اپنایا تو حکومت نے اپنی بے چینی ظاہر کر دی۔ یوکرین پر حملے کے بعد اس نے روسی خام تیل پر اپنا انحصار اور بڑھا دیا اور مغربی ممالک کی پابندیوں کو کھلے عام نظر انداز کیا، لیکن بعد میں ٹرمپ کی ’ٹیرف بلیک میلنگ‘ کے آگے جھک گیا۔ اب اس نے ’برکس‘ گروپ کو بھی مایوس کیا ہے، جس کی صدارت وہ خود کر رہا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ہماری خارجہ پالیسی پر نہ تو کوئی اتحادی مکمل اعتماد کرتا ہے، اور نہ ہی کوئی مخالف واقعی اس سے خوف کھاتا ہے۔ واشنگٹن بغیر کوئی مدد دیے اپنی بات منوا لیتا ہے۔ ماسکو تیل تو دیتا ہے، لیکن سیکورٹی نہیں۔ بیجنگ سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بنا ہوا ہے اور اس کا تجارتی سرپلس بھی بہت زیادہ ہے، لیکن ہندوستان کے خلاف مسلح تنازعہ میں وہ فعال طور پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ سعودی عرب، جسے حکومت مسلم دنیا میں مودی کی ایک کامیابی کی کہانی کے طور پر پیش کرتی ہے، نے غزہ پر ہندوستان کی خاموشی کے بعد ستمبر 2025 میں اسلام آباد کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے۔

پڑوسی سے دشمنی

ایک دہائی سے بھی پہلے باضابطہ طور پر پیش کی گئی ہندوستان کی ’نیبرہڈ فرسٹ‘ (پڑوسی پہلے) پالیسی کا مقصد ہندوستان کو اس خطے کا ایک ناگزیر شراکت دار بنانا تھا۔ لیکن اس کے بجائے، اس نے ایک ایسا جنوبی ایشیا دیا ہے جس میں ہندوستان ایک ہی وقت میں سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور سب سے زیادہ عدم اعتماد کا شکار بھی۔

مالدیپ نے مئی 2024 میں اپنے ’انڈیا آؤٹ‘ مہم پر مبنی واضح انتخابی مینڈیٹ کے بعد ہندوستانی فوجیوں کو ملک سے نکال دیا۔ ہندوستان کا سب سے قابل اعتماد شراکت دار بھوٹان اب خاموشی سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی شروع کر چکا ہے۔ اس نے بیجنگ کے ساتھ مل کر چینی نئے سال کی تقریب منعقد کی، جس میں اس کے شاہی خاندان کے افراد بھی شامل ہوئے؛ بیجنگ کو اشارہ دیتے ہوئے تبت کو باضابطہ طور پر ’شیجانگ‘ کے نام سے پکارا؛ اور اب وہ نئی دہلی کو نظر انداز کرتے ہوئے چین کے ساتھ براہ راست سرحدی مذاکرات میں مصروف ہے۔ شمالی بھوٹان کی غیر آباد جکارلونگ اور مینچوما وادیوں میں چینی بستیاں قائم ہو چکی ہیں، اور ہندوستان اس حقیقت کو بدلنے میں ناکام رہا ہے۔ ’چکن نیک‘ کے نام سے معروف سلی گڑی کوریڈور ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں کو ملک کے مرکزی حصے سے جوڑتا ہے۔ یہ کوریڈور بلند پہاڑیوں کے سامنے مکمل طور پر کھلا ہوا ہے، جہاں چینی بنیادی ڈھانچہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

بنگلہ دیش ایک قابل اعتماد شراکت دار سے بدل کر اب ایک کھلا مخالف بن چکا ہے۔ محمد یونس کی عبوری حکومت نے تو اپنے ملک کو چین کے لیے ہندوستان کے چاروں طرف سے گھرے (لینڈ لاکڈ) شمال مشرقی ریاستوں تک پہنچنے کا ایک دروازہ بنانے کی پیشکش بھی کر دی تھی۔ ہندوستان نے اس اشتعال کا جواب تجارتی راستوں پر پابندی لگا کر دیا، جس سے اندازاً 770 ملین ڈالر کی تجارت متاثر ہوگی۔ اس اقدام سے ہندوستانی اثر تو بحال نہیں ہوا، البتہ ناراضگی میں مزید اضافہ ضرور ہوا ہے۔

نیپال میں سیاسی شخصیات کی ایک نئی نسل نے اقتدار سنبھالا ہے، جن کے نئی دہلی کے ساتھ کوئی موروثی تعلقات نہیں ہیں، اور نہ ہی وہ اس عدم توازن کے لیے اتنے صابر ہیں جو ہمیشہ سے اس تعلق کی پہچان رہا ہے۔ میانمار میں ہندوستان نے ایک ایسے فوجی اقتدار پر شرط لگائی، جس کا اب ملک کے کل رقبے کے مشکل سے 30 فیصد حصے پر ہی کنٹرول باقی ہے۔ سرحدی علاقوں پر تیزی سے غلبہ حاصل کر رہی مزاحمتی قوتوں کے ساتھ ہندوستان نے کسی قسم کا کوئی تعلق قائم نہیں کیا ہے۔ چین نہ صرف اس خلا کو پُر کرنے میں کامیاب رہا ہے جو ہندوستان نے چھوڑا تھا بلکہ اس سے بھرپور فائدہ بھی اٹھایا ہے۔

وراثت کی بربادی

مودی حکومت 2023 میں اپنی جی-20 صدارت کی کامیابی پر فخر کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افریقی یونین کو مستقل رکن کے طور پر شامل کرنا ایک قابل ذکر قدم تھا۔ مودی حکومت کے ابتدائی برسوں میں خلیجی ممالک کے ساتھ ہونے والی شراکت داریاں حقیقی، تجارتی لحاظ سے اہم اور اسٹریٹجک طور پر مفید تھیں۔ یورپی یونین اور برطانیہ، نیوزی لینڈ و چند دیگر ممالک کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کیے گئے ہیں۔ لیکن ان میں سے بیشتر ’کامیابیاں‘ یا تو یو پی اے دور سے وراثت میں ملی تھیں یا پھر سابقہ اقدامات کو آگے بڑھا کر حاصل کی گئی تھیں۔ کچھ کامیابیاں ساختی ہونے کے بجائے زیادہ تر نام و نمود سے جڑی تھیں۔ وہ نہ تو پائیدار اتحادوں میں تبدیل ہو سکیں، نہ ہی ٹھوس وعدوں میں، اور نہ ہی بحران کا مقابلہ کرنے والے تعلقات میں۔

ہندوستان کی جی-20 ’کامیابی‘ براہ راست منموہن سنگھ کے دور میں ہونے والی ترقی کا نتیجہ ہے۔ ایف ٹی اے بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں جس پر یو پی اے دور کے ایف ٹی اے جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور، آسیان اور دس سے زیادہ دیگر خاص ممالک کے ساتھ چل رہے تھے۔ مودی حکومت کو اپنا پہلا ایف ٹی اے دستخط کرنے میں 8 سال لگ گئے، اور یورپی یونین و برطانیہ کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے لیے ٹرمپ کے ٹیرف والے ناز و نخرے برداشت کرنے کی ضرورت پڑی!

ان تعلقات کو مضبوط اتحادوں میں تبدیل کرنے میں ناکامی کا ہندوستان کو واقعی بڑا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ ’اسٹریٹجک خود مختاری‘ کا اس کا دعویٰ کھوکھلا لگتا ہے، اور خارجہ پالیسی کے معاملے میں اس کی تنہائی ایک تلخ حقیقت ہے۔

(مضمون نگار گردیپ سنگھ سپّل کانگریس مجلس عاملہ کے مستقل مدعو رکن ہیں)


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...