
قرض کے حوالے سے ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ایک مسلسل عمل ہے اور ریاست کی ’جی ایس ڈی پی‘ کی بنیاد پر ہی قرض لینے کی حد طے ہوتی ہے۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت سے ملنے والے بلا سود قرض کے لیے ضروری اصلاحات بھی کی جائیں گی، تاکہ عوام پر بوجھ ڈالے بغیر وسائل اکٹھے کیے جا سکیں۔ انٹری ٹیکس کے تنازعہ پر سکھویندر سنگھ سکھو نے واضح کیا کہ یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے، بلکہ کئی سالوں سے نافذ ہے۔ چھوٹی گاڑیوں پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے، جبکہ بڑی گاڑیوں کے ٹیکس میں بھی منطقی ترمیم کے ذریعہ اسے کم کرنے پر حکومت غور کرے گی۔ پنشنرز کے احتجاج کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ان کے احترام اور مفادات کے تئیں پرعزم ہے اور بجٹ کی حدود میں رہتے ہوئے پنشن کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا۔






