
پوسٹ میں اس ملاقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو پانچ نومبر 1949 کو پرنسٹن میں آئنسٹائن کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی۔ دونوں شخصیات نے عالمی سیاست، امن اور انسانی اقدار پر تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں نومبر 1952 میں آئنسٹائن کو اسرائیل کے صدر کا منصب پیش کیا گیا جسے انہوں نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ سیاسی ذمہ داریوں کے لیے خود کو موزوں نہیں سمجھتے۔
جے رام رمیش نے مزید یاد دلایا کہ اپریل 1955 میں آئنسٹائن کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل ان اور نہرو کے درمیان جوہری دھماکوں اور ہتھیاروں کے خطرات پر بھی خطوط کا تبادلہ ہوا تھا۔ ان خطوط میں عالمی امن، ایٹمی تجربات کی تباہ کاری اور انسانیت کے مستقبل پر گہری تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
اس طرح جے رام رمیش نے تاریخی خطوط اور تصاویر کے ذریعے یہ مؤقف پیش کیا کہ اسرائیل اور فلسطین کے سوال پر ہندوستانی قیادت نے ہمدردی، توازن اور عالمی امن کے اصولوں کو سامنے رکھا تھا، اور یہ بحث آج بھی سفارتی اور اخلاقی زاویوں سے اہمیت رکھتی ہے۔






