
استنبول میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان یہ مذاکرات خطے میں بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے کیے گئے تھے، تاہم تین روزہ بات چیت کے باوجود فریقین کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
یہ مذاکرات قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہوئے، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شریک تھے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ماحول خاصا کشیدہ رہا اور بعض نشستوں میں سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ افغان وفد کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’’بات چیت کے دوران پاکستانی نمائندوں نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر افغان فریق پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی مگر کابل نے واضح کیا کہ یہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔‘‘






