
پرتپال سنگھ بیتاب اور ان کا شعری مجموعہ سفر جاری ہے، تصویر بہ شکریہ: فیس بک / ایکس
نئی دہلی: ساہتیہ اکادمی نے سوموار (16 مارچ) کو سال 2025 کے لیے اپنے باوقار سالانہ ایوارڈز کا اعلان کیا۔ اکادمی نے ہندی میں ممتا کالیا، انگریزی میں انڈین فارن سروس کے ریٹائرڈ سفارت کار نو تیج سرنا، اُردو میں پرتپال سنگھ بیتاب، سنسکرت میں مہا مہوپادھیایہ بھدریش داس اور پنجابی میں جیندر سمیت 24 ہندوستانی زبانوں کے ادیبوں کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔
ساہتیہ اکادمی کی پریس ریلیز کے مطابق اس بار آٹھ شعری مجموعے، چار ناول، دو افسانوی مجموعے، ایک ادبی تنقید، ایک خودنوشت اور دو یادداشتوں کو اس باوقار انعام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
ریلیز کے مطابق ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 کا عمل جنوری 2025 میں شروع ہوا تھا اور آئندہ 31 مارچ کو قومی دارالحکومت میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں انعام پانے والے مصنفین کو ایک لاکھ روپے نقد، کندہ شدہ تانبے کی تختی اور شال بطور اعزاز پیش کیا جائے گا۔
#साहित्यअकादेमी #पुरस्कार2025 की 24 मान्यता प्राप्त भाषाओं में घोषणा।@rashtrapatibhvn @VPIndia @PMOIndia @gssjodhpur @Rao_InderjitS @MinOfCultureGoI @secycultureGOI pic.twitter.com/bg6ItmSpWE
— Sahitya Akademi (@sahityaakademi) March 16, 2026
اردو کے معروف شاعر پرتپال سنگھ بیتاب کو سال 2025 کا ساہتیہ اکادمی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز ان کے شعری مجموعہ سفر جاری ہے کے لیے دیا گیا ہے۔
ان کا یہ مجموعہ 2023 میں شائع ہوا تھا۔ ان کے دیگر شعری مجموعوں میں میرے حصے کی دنیا،پیش خیمہ، فلک آثار وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
#साहित्यअकादेमी #पुरस्कार2025, प्रितपाल सिंह बेताब का “कविता-संग्रह : सफ़र जारी है” उर्दू भाषा में चयनित।#Award #Award2025 #Books #BooksForAll #LibraryBooks @rashtrapatibhvn @VPIndia @PMOIndia @gssjodhpur @Rao_InderjitS @MinOfCultureGoI @secycultureGOI @PIB_India pic.twitter.com/h21L0XxhFu
— Sahitya Akademi (@sahityaakademi) March 16, 2026
ہندی میں ممتا کالیا کو یہ ایوارڈ ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب’جیتے جی الہ آباد‘ پر دیا گیا ہے۔ ممتا کالیا نے اس کتاب میں اتر پردیش کے شہر الہ آباد (پریاگ راج) میں گزارے اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے رانی منڈی کے اپنے مکان، لوکناتھ کے ذائقوں اور چوک سمیت پرانے شہر کے مختلف پہلوؤں کو منفرد انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس دور کے ادیبوں اور ان کے طور طریقوں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
انگریزی زبان میں نو تیج سرنا کو ان کے ناول کمنگ اسپرنگ کے لیے ایوارڈ دیا جائے گا۔ یہ کتاب 1919 کے جلیانوالہ باغ کا قتل عام پر مبنی ہے۔ اس میں امرتسر میں ہونے والے اس قتل عام کی ہولناکی، اس کے اسباب اور عام لوگوں پر پڑنے والے گہرے اثرات کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس میں ادھم سنگھ اورغدرجیسے واقعات کا بھی ذکر شامل ہے۔
سنسکرت میں شعری مجموعہ پرستھان چتشتئے برہم گھوش کے لیے بھدرش داس کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ادب کی تخلیق میں سرگرم جئے پورکے ضلع کلکٹر ڈاکٹر جتیندرسونی کو سال 2025 کا راجستھانی زبان کا ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ان کے معروف افسانوی مجموعہ بھرکھماکے لیے دیا جائے گا۔
ڈوگری زبان میں کھجور سنگھ ٹھاکرکی لکھی ہوئی ٹھاکر ستسئی کو 2025 کے ادبی اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ میتھلی زبان کے لیےمہندرکی کتاب دھاتری پات سن گام کو انعام دیا جائے گا۔
سنتھالی زبان میں سمترا سورین کو ان کے افسانوی مجموعہ مڈ برنا چیننے سااون اناگ ساگئی کے لیے، آسامی زبان میں ناول کڑی کھیلر سادھوکے لیے دیوبرت داس کو، بنگالی میں شریشٹھ کبیتاکے لیےپرسون باندھوپادھیایہ کو، اور بوڈو زبان کے ناول ڈون نے لاما: مونسے گاتھون کے لیےسہائے سلی برہما کو یہ ایوارڈ دیا جائے گا۔
اسی طرح گجراتی میں بھڈکھڑکی (شاعری) کے لیےیوگیش ویدیہ، کنڑ میں دڈا سیریسو (افسانہ) کے لیےامریش نگڈونی، علی شیدا کو کشمیری زبان میں ‘نجداوانیکی پوٹ الاؤ’ (شاعری) کے لیے، کونکنی میں ‘کونکنی کاویین: روپ آنی روپکاں’ (تنقیدی مضمون) کے لیے ہنری مینڈونکا (ایچم پرنل) کو اس باوقار ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملیالم میں مایامانوشیار (ناول) کے لیے این پربھاکرن کو، منی پوری میں کنگلمدریب افوت (کہانی) کے لیے ہوبم نلنی، مراٹھی میں کلیانیہ ریشا (خود نوشت) کے لیے راجو باوِسکر، پرکاش بھٹارائی کو نیپالی پرمپارک سنسکرتی، نیپالی میں پرکاش بھٹارائی کو دیا جائے گا۔ اڑیہ میں پاداپورانہ (شاعری) کے لیے گریجا کمار بلیار سنگھ کو دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ جندر کو پنجابی میں ‘سیفٹی کٹ’ (کہانی) کے لیے، بھگوان اتلانی کو سندھی میں ‘واگھو’ (کہانی) کے لیے، ایس تمل سیلوان کو تمل میں ‘تمل سروکتھائین تھڈنگل’ (ادبی تنقید) کے لیے اور نندنی سدھاریڈی کو ‘انیمیش’ (شاعری) کے لیے ایوارڈ دیا جائے گا۔
غور طلب ہے کہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 1954 سے ہر سال ہندوستانی زبانوں کی بہترین تخلیقات کو دیا جاتا ہے۔ وزارت ثقافت کے تحت دیے جانے والے یہ ایوارڈ اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب 2015 میں 39 مصنفین نے معروف کنڑ ادیب ایم ایم کلبرگی کے قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کر دیے تھے۔
اس کے بعد 2023 میں پارلیامنٹ کی ایک اسٹینڈنگ کمیٹی نے یہ تجویز دی تھی کہ مختلف ادبی اور ثقافتی اداروں کے ایوارڈ کے لیے منتخب امیدواروں سے پہلے ہی ایک حلف نامہ لیا جائے کہ وہ انہیں دیا جانے والا اعزاز سیاسی وجوہات کی بنا پر واپس نہیں کریں گے۔






