
شوکت علی میر پونچھ
زبان اور پانی—یہ دونوں ہی دنیا کے ہر فساد کی جڑ ہیں۔ پانی کا جھگڑا تو بالٹی، نلکے، یا ندی تک رہتا ہے، لیکن زبان کا جھگڑا؟ وہ تو دماغ کے تنگ گلیاروں سے ہوتا ہوا دل کے چوراہے پر جا پہنچتا ہے۔ اور جب دل کی بات چلے، تو ہمارے محلے کے ’شُدھ بھاشا بابو‘، یعنی تیواری جی، اپنا تامبے کا کلش ہاتھ میں لے کر فرماتے ہیں:
“دل نہیں، ہردیہ! یہ ہندی کا خالص لفظ ہے۔ اردو والوں نے ہمارا ہردیہ چُرا کر ’دل‘ بنا دیا!”
میں نے عرض کیا:
“تیواری جی، آپ کا ہردیہ ہندی میں دھڑکتا ہے، لیکن جب آپ اپنی رادھا بھابھی سے ’پریم‘ کی بات کرتے ہیں، تو وہ کیوں ’محبت‘ سمجھ کر مسکراتی ہیں؟”
بس، پھر کیا تھا! تیواری جی کا چہرہ ایسا ہوا جیسے کسی نے ان کے ’دیویا شبدکوش‘ پر ’اردو قلم‘ سے ’خوش آمدید‘ لکھ دیا ہو۔
تیواری جی ہمارے محلے کے وہ نایاب ہیرا ہیں جو صبح سویرے زعفرانی گمچھا اوڑھے، تامبے کے کلش میں ’گنگاجل‘ بھرے، اور زبان پر ’خالص ہندی‘ کی گنگوتری لے کر نکلتے ہیں۔ ان کا مشن ہے:
“اردو شبدوں کی ’سپرش‘ سے ہندی کی مکتی!”
ایک دن میں نے پوچھا:
“تیواری جی، ’مکتی‘ تو خود اردو کے ’نجات‘ کا چچا زاد بھائی ہے۔ اگر آپ اسے بھی چھوڑ دیں تو کیا ’آزادی‘ کہیں گے، یا کوئی نیا لفظ ’نرمان‘ کریں گے؟”
انہوں نے ایسی نظر سے دیکھا جیسے میں نے ان کی ’سنسکریتی‘ کو ’اردو محلے‘ میں رہن رکھ دیا ہو۔ فرمایا:
“تم جیسے لوگ ہماری بھاشا کی ’وِپریاکتتا‘ کے گنہگار ہو! ہم ’مکتی‘ کو ’وِموچن‘ کہیں گے!”
میں نے دل میں سوچا: ’وِموچن‘ سن کر تو محلے کی بھابھیاں ’چکراگھننی‘ ہو جائیں گی، اور شاید ’شبدکوش‘ خود ’وِموچن‘ مانگ لے!
ایک دن تیواری جی نے محلے کے چوراہے پر ’شُدھ بھاشا سنگھ‘ کا عظیم جلسہ رکھا۔ موضوع تھا:
“اردو شبدوں سے ہندی کی نرمان—ایک وچارتک چنتن”
میں بھی شوق سے پہنچ گیا، ہاتھ میں پاپ کارن کا ٹھیلا اور دل میں طنز کا میلہ۔ اسٹیج پر تیواری جی زعفرانی کرتا، سفید دھوتی، اور پیشانی پر چندن کا ٹیکا لگائے بیٹھے تھے۔ ہاتھ میں ایک پیلے صفحات والا شبدکوش تھا، جسے وہ کبھی کبھی عینک کے اوپر سے گھورتے، جیسے کوئی ’بھاشا جنگی‘ منصوبہ بنا رہے ہوں۔
جلسہ شروع ہوا۔ ایک مقرر نے شعر سنایا:
“ہندی ہماری شان ہے، شُدھتا اس کا پیار،
اردو کے شبدوں سے بچو، یہ لاتی ہے وچار!”
میں نے تالیاں تو بجائیں، لیکن دل میں سوچا: ’وچار‘ تو خود اردو کا ’خیال‘ ہے! اب اسے کیا ’چنتن‘ کہیں گے یا ’سوچ-وِچرن‘؟
تیواری جی نے بھاشن شروع کیا:
“ہمارا بھوشیہ پرشرتھ سے نرمت ہوگا! ہم وشواس پورن ہیں کہ ہندی کی شُدھتا سے ہی ہماری سنسکریتی کا اُدھار ہوگا!”
پیچھے بیٹھا ایک بچہ اپنی امی سے بولا:
“امی، یہ کیا بول رہے ہیں؟”
امی نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔
“بیٹا، انہیں خود بھی نہیں پتا۔ بس ’شُدھتا‘ کا طبلہ بجا رہے ہیں!”
ایک اور صاحب نے نعرہ لگایا:
“اردو بھگاؤ، ہندی بچاؤ!”
میں نے آہستہ سے کہا:
“جناب، ’بھگاؤ‘ تو خود اردو کا ’بھگائیں‘ سے رشتہ دار ہے۔ کیا اسے ’دھکم-دھکا‘ کہیں گے؟”
تیواری جی نے سنا تو عینک اتاری اور بولے:
“تمہاری ایسی ’وِرودھابھاس‘ ہماری سنسکریتی پر کلنک ہے!”
میں نے مسکرا کر کہا:
“کلنک تو آپ کی ہندی ہے، جو نہ اسٹیج پر سمجھ آتی ہے نہ گھر میں!”
تیواری جی کی ’شُدھتا مہم‘ گھر کے آنگن تک پہنچ گئی۔ ایک دن رادھا بھابھی نے پوچھا:
“آج بھوجن میں کیا لیں گے؟”
تیواری جی نے کلش سے گنگاجل کا گھونٹ بھرا، پیشانی پر ہاتھ رکھا، اور فرمایا:
“ہم آج ’ساگرتل-سپشت-بھوجن‘ لینا چاہیں گے، جس میں ’شاکاہاری-رسم‘ ہو!”
رادھا بھابھی نے تنگ آ کر کہا:
“صاف بولیں، کھچڑی کھائیں گے یا دال چاول؟ اور یہ ’رسم‘ کیا ہوتا ہے؟ سبزی کی تری مانگ رہے ہیں کیا؟”
تیواری جی نے عینک کے اوپر سے گھورا اور بولے:
“تمہاری ایسی بھاشا ہماری گھریلو سنسکریتی پر کلنک ہے!”
رادھا بھابھی نے پلٹ کر کہا:
“کلنک تو آپ کی ہندی ہے، جو نہ باورچی خانے میں چلتی ہے نہ بازار میں! کل سے میں بھی ’شُدھ اردو‘ بولوں گی—’کھانا تیار ہے‘ کی جگہ کہوں گی ’طعام حاضر ہے‘!”
یہ سن کر تیواری جی کا منہ ایسا لٹکا جیسے کسی نے ان کا کلش چھین کر اس میں ’اردو شربت‘ بھر دیا ہو۔ محلے والوں نے سنا تو ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو گئے۔
ایک دن رادھا بھابھی نے تیواری جی سے کہا:
“سنئیے، محلے کا سبزی والا ’بھیا‘ کہہ رہا تھا کہ آپ اس سے ’شاک‘ مانگتے ہیں۔ وہ تو بھاگ گیا یہ سوچ کر کہ آپ اسے ’شاک‘ دینے والے ہیں!”
تیواری جی نے شرمندہ ہو کر کہا:
“ہم تو بس ’سبزی‘ کو ’شاک‘ کہہ رہے تھے!”
رادھا بھابھی نے ہنستے ہوئے کہا:
“تو پھر ’آلو‘ کو ’کنند‘ اور ’ٹماٹر‘ کو ’رکت-پھل‘ کیوں نہیں کہتے؟ سبزی والا تو آپ کو ’سنسکرت بابا‘ کہہ کر چھیڑتا ہے!”۔
ایک دن تیواری جی بیمار پڑ گئے۔ بخار چڑھا، گلے میں سوجن، اور آواز ایسی بیٹھی جیسے کوئی پرانا ریڈیو خراب ہو گیا ہو۔ رادھا بھابھی زبردستی ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔ ڈاکٹر نے پوچھا:
“کیا تکلیف ہے؟”
تیواری جی نے اپنی ’شُدھ ہندی‘ کا جھنڈا بلند رکھتے ہوئے کہا:
“ہمارا کنٹھ ’وِکار-گرست‘ کا شکار ہے، ’ادھ-سواس‘ بڑھا ہوا ہے، اور ’انتر-رچنا‘ میں ’جلتت-پڑا‘ ہے۔”
ڈاکٹر نے عینک نیچے کھسکائی، سر پکڑ لیا، اور بولا:
“جناب، سیدھا بتائیں، کھانسی ہے یا نمونیا؟ یا آپ کو سنسکرت کا بخار چڑھا ہے؟”
رادھا بھابھی نے بیچ میں ٹوکا:
“ڈاکٹر صاحب، انہیں ٹھنڈا پانی پینے سے نزلہ ہوا ہے۔ آپ بس دوائی لکھ دیں، ورنہ یہ ’شُدھ ہندی‘ میں پوری رامائن سنا دیں گے!”
ڈاکٹر نے ہنستے ہوئے کہا:
“بھابھی جی، آپ کی ہندی-اردو سے ہی علاج ہو جائے گا۔ تیواری جی کو بس ’چائے‘ کی جگہ ’کاڑھا‘ پلائیے!”
تیواری جی نے ’کاڑھا‘ سنتے ہی منہ بنایا اور بولے:
“یہ ’کاڑھا‘ کیا ہے؟ ہم تو ’شاک-رس‘ لیں گے!”
ڈاکٹر نے ہنس کر کہا:
“شاک-رس تو ٹھنڈا ہوتا ہے، آپ کو تو ’گرم جوشاندہ‘ چاہیے!”
رادھا بھابھی نے چٹکی لی:
“ڈاکٹر صاحب، انہیں ’جوشاندہ‘ مت کہیے، ورنہ یہ اسے ’اردو شبد‘ سمجھ کر کلش سے گنگاجل چھڑکنا شروع کر دیں گے!”
تیواری جی کا بیٹا، وویک (جسے محلے والے ’ویکو‘ کہتے ہیں)، ایک دن اسکول سے آیا اور بولا:
“پتا شری، آپ جب اسکول جاتے تھے تو ’دوست‘ بناتے تھے یا ’سمجھی‘؟”
تیواری جی نے سینہ پھلایا اور کہا:
“بیٹا، ہم تو ’سمیہ‘ کا ’سادھن‘ کرتے تھے!”
ویکو نے معصومیت سے کہا:
“پتا جی، مجھے تو اردو زیادہ آسان لگتی ہے۔ آپ کی ہندی سے تو ماں کی چپ زیادہ سمجھ آتی ہے!”
رادھا بھابھی نے یہ سنا تو ہنستے ہوئے کہا:
“بیٹا، تیرے پتا کی ہندی سن کر تو ’شبدکوش‘ بھی ’وِموچن‘ مانگتا ہے!”
ویکو نے مزید کہا:“پتا جی، اسکول میں ہمارا ٹیچر کہتا ہے کہ ’دوست‘ اور ’سمجھی‘ دونوں ایک ہی ہیں۔ تو پھر آپ کیوں ’اردو بھگاؤ‘ کا نعرہ لگاتے ہیں؟”
تیواری جی نے عینک اتاری، گہری سانس لی، اور بولے:
“بیٹا، یہ سب ’ورن-سنکرتا‘ کا پرچار ہے!”
ویکو نے سر کھجاتے ہوئے کہا:
“پتا جی، یہ ’ورن-سنکرتا‘ کیا ہے؟ کیا یہ وہی ہے جب آپ ماں سے ’چائے‘ مانگتے ہیں اور وہ ’کاڑھا‘ بنا دیتی ہیں؟”
یہ سن کر محلے والوں نے تالیاں بجائیں، اور تیواری جی کا منہ لٹک گیا۔ ایک پڑوسی نے چھیڑا:
“تیواری جی، آپ کا بیٹا تو ’ہندی-اردو سنگم‘ کا پوسٹر بوائے بن گیا!”
ایک دن محلے میں ’بھاشا سنگم‘ کا پروگرام ہوا، جہاں ہندی اور اردو کے شاعر مدعو تھے۔ تیواری جی کو زبردستی اسٹیج پر بلایا گیا۔ انہوں نے اپنی ’خالص ہندی‘ میں شعر سنایا:
“ہندی ہماری شان ہے، شُدھتا اس کا گہنا،
اردو کے شبدوں سے بچو، یہ دل کا ہے کرنا!”
پیچھے سے اردو شاعر، مرزا فیضان، نے مسکراتے ہوئے کہا:
“جناب، آپ کا ’کرنا‘ تو ہمارا ’دکھ‘ ہے، لیکن چلیے، ہم بھی ایک شعر پیش کرتے ہیں:
زبان جو دل سے دل تک جائے،
وہ ہندی ہو یا اردو، بس محبت سجائے!”
حاضرین نے تالیاں بجائیں۔ تیواری جی نے منہ بنایا اور بولے:
“یہ ’وِرودھابھاس‘ ہے!”
مرزا فیضان نے ہنستے ہوئے کہا:
“تیواری جی، یہ ’وِرودھابھاس‘ نہیں، ’حقیقت کا پراکاش-پنج‘ ہے—یا سیدھے لفظوں میں ’سچ‘!”
پھر ایک بچے نے اسٹیج پر چڑھ کر کہا:
“سر، آپ دونوں کی باتیں تو ایک جیسی ہیں۔ پھر لڑائی کیوں؟”
تیواری جی اور مرزا فیضان دونوں چپ ہو گئے۔ بچے کی بات نے سب کو سوچ میں ڈال دیا۔ محلے کے ایک چچا نے ہنستے ہوئے کہا:
“ارے، یہ بچہ تو ہم سب کو ’بھاشا موہنی‘ جال میں پھنسا گیا!”
ایک شام تیواری جی سے میری لمبی بحث ہوئی۔ میں نے کہا:
“تیواری جی، اگر ہندی اور اردو کو ملا دیں تو کیا ہوگا؟”
انہوں نے ناک چڑھائی اور بولے:
“یہ تو ’ورن-سنکرتا‘ ہے—زبانوں کی شُدھتا کا نرناش!”
میں نے کہا:
“ارے بھائی، محبت سے جو لفظ ملیں وہ ’سنکر‘ نہیں، ’سنگم‘ کہلاتے ہیں! جیسے گنگا اور جمنا کا سنگم!”
وہ بولے:
“ہم تو اپنی نرمل ہندی کی رکشا کریں گے!”
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
“تو رکھیے، لیکن جب ’پیار‘، ’دوست‘، ’ماں‘، ’دل‘، ’خواب‘، یا ’محبت‘ سنیں، تو انہیں گالیاں مت سمجھیں۔ یہ سب ہماری دھرتی کی بیٹیاں ہیں!”
تیواری جی نے کلش سے گنگاجل کا گھونٹ بھرا اور بولے:
“تمہاری بات میں ’تتو‘ ہے، لیکن ہم ’شُدھتا‘ نہیں چھوڑیں گے!”
میں نے کہا:
“تیواری جی، ’تتو‘ تو خود سنسکرت کا ہے۔ کیا اسے ’سچائی‘ کہیں گے یا ’حقیقت‘؟”
یہ سن کر تیواری جی ہنس پڑے—شاید پہلی بار! پھر بولے:
“تمہاری بات سے ہمارا ’ہردیہ‘ ’پرمدت‘ ہوا!”
میں نے چٹکی لی:
“واہ، تیواری جی! ’پرمدت‘ تو ’خوش‘ کا بھاری بھرکم کزن ہے! کیوں نہ ہم ’خوشی‘ ہی کہہ لیں؟”ایک دن محلے میں ہلچل مچ گئی جب ایک لوکل ٹی وی چینل والوں نے تیواری جی کا انٹرویو لینے کا فیصلہ کیا۔ موضوع تھا:
“ہندی کی شُدھتا: ضرورت یا جنون؟”
تیواری جی اسٹیج پر زعفرانی کرتا پہن کر بیٹھے، کلش ہاتھ میں، اور عینک چمکاتے ہوئے۔ اینکر نے پوچھا:
“تیواری جی، آپ اردو کے الفاظ کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں؟”
تیواری جی نے سینہ پھلایا اور بولے:
“ہماری بھاشا کو ’وشُدھتا‘ کی سادھنا چاہیے! اردو کے شبد ہماری سنسکریتی پر ’سپرش-دوش‘ ہیں!”
اینکر نے ہنستے ہوئے کہا:
“لیکن تیواری جی، آپ نے ابھی ’دوش‘ کہا، جو اردو کے ’عیب‘ سے ملتا ہے۔ کیا اسے ’خامی‘ کہیں گے؟”
تیواری جی گھبرا گئے، کلش سے گنگاجل کا گھونٹ بھرا، اور بولے:
“ہم تو ’نیسرگک-خمتا‘ کہنا چاہتے تھے!”
اینکر نے چھیڑا:
“لیکن جناب، آپ کے گھر میں تو ’چائے‘ اور ’کھچڑی‘ بنتی ہے، ’کاڑھا‘ اور ’ساگرتل-سپشت-بھوجن‘ تو کبھی سنا نہیں!”
تیواری جی کا چہرہ لال ہو گیا۔ وہ بولے:
“یہ سب ’بھاشا-وِپلو‘ کا پرچار ہے!”
اینکر نے رادھا بھابھی کو بلایا، جو ہنستے ہوئے بولیں:
“انہیں بس ’شُدھ ہندی‘ کا شوق ہے، لیکن جب بھوک لگتی ہے تو ’کھانا‘ ہی مانگتے ہیں، ’بھوجن‘ نہیں!”
پوری محلے نے ٹی وی پر یہ دیکھ کر تالیاں بجائیں، اور تیواری جی نے کلش کو زور سے پکڑ لیا جیسے وہ ’اردو-ہندی جنگ‘ کا آخری ہتھیار ہو!
ایک دن تیواری جی نے اعلان کیا کہ وہ ’شُدھ ہندی دکان‘ کھول رہے ہیں، جہاں ہر چیز کا نام ’خالص ہندی‘ میں ہوگا۔ محلے والوں نے سوچا کہ یہ کوئی نیا تماشا ہے، اور سب دکان کے افتتاح پر پہنچ گئے۔ دکان کا بورڈ دیکھ کر سب ہنس پڑے، کیونکہ اس پر لکھا تھا:
“شُدھ بھاشا بھنڈار—سبھی کے لیے وِشُدھتا کی سادھنا!”
دکان میں داخل ہوا تو تیواری جی زعفرانی کرتا پہن کر کاؤنٹر پر بیٹھے تھے۔ ایک گاہک نے پوچھا:“بھائی صاحب، یہ ’چائے‘ کتنی کی ہے؟”
تیواری جی نے عینک چمکائی اور بولے:
“یہ ’چائے‘ نہیں، ’چہا‘ ہے! اور اس کی قیمت ہے دس ’مودرا‘!”
گاہک نے سر کھجاتے ہوئے کہا:
“ارے بھائی، ’مودرا‘ کیا ہوتا ہے؟ روپیہ بتائیں!”
تیواری جی نے گنگاجل کا گھونٹ بھرا اور بولے:
“ہم ’روپیہ‘ نہیں، ’مودرا‘ کہتے ہیں، کیونکہ یہ ہماری سنسکریتی کا پرتیک ہے!”
رادھا بھابھی، جو دکان کے کونے میں کھڑی ہنسی روک رہی تھیں، بولیں:
“سنئیے، اگر گاہک ’چہا‘ نہیں پئیں گے تو آپ کی ’مودرا‘ بھی ’وِموچن‘ مانگے گی!”
دکان کے باہر ایک بچے نے چھیڑا:
“تیواری انکل، آپ کی دکان تو ’اردو-ہندی سنگم‘ بن گئی، کیونکہ گاہک ’چائے‘ مانگ رہے ہیں اور آپ ’چہا‘ بیچ رہے ہیں!”
یہ سن کر تیواری جی نے کلش زور سے پکڑا، لیکن محلے والوں کی ہنسی دیکھ کر وہ خود بھی مسکرا دیے۔
خیر زبان دل کی ہوتی ہے
آخر میں، تیواری جی کے ایک جلسے میں ایک بچے نے سوال کیا:
“سر، آپ کون سی زبان بولتے ہیں؟”
تیواری جی نے سینہ تان کر کہا:
“ہم شُدھ ہندی بولتے ہیں!”
بچے نے معصومیت سے کہا:
“لیکن سر، جب آپ ماں سے ’چائے‘ مانگتے ہیں تو وہ ’کاڑھا‘ کیوں بناتی ہیں؟”
سب ہنس پڑے۔ تیواری جی بھی مسکرائے اور بولے:
“بیٹا، چائے ہو یا کاڑھا، بس لہجہ میٹھا ہونا چاہیے!”
محلے کے ایک چچا نے چھیڑا:
“تیواری جی، اب تو ’چائے‘ کو ’چہا‘ اور ’کاڑھا‘ کو ’کشایم‘ کہنا شروع کر دیں، ورنہ رادھا بھابھی ’جوشاندہ‘ پلائیں گی!”
نکتہء آخر
زبانیں دیواریں نہیں، دروازے ہیں۔ وہ محبت، رشتوں، اور فہم کے پل ہیں۔ چاہے آپ ’شبد‘ کہیں یا ’لفظ‘، ’پیار‘ کہیں یا ’پریم‘، ’چائے‘ مانگیں یا ’کاڑھا‘—جب تک دل میں مٹھاس ہے، ہر زبان اپنی ہے۔
تو آئیے، فیصلہ کریں:
نہ ہندی بری ہے، نہ اردو کم۔
دونوں زبانیں اسی دھرتی کی بیٹیاں ہیں—
ایک نے سکھایا “پریم کیا ہے”،
دوسری نے بتایا “محبت کیوں ہے”۔
اور اگر کوئی پوچھے:
“تم کون سی زبان بولتے ہو؟”
تو بڑے فخر سے کہیے:
“ہم انسان بولتے ہیں—تھوڑی اردو، تھوڑی ہندی، اور باقی دل کی زبان!”





