اردو ادب کا روشن ستارہ

AhmadJunaidJ&K News urduDecember 21, 2025363 Views


یہ دونوں نمونے ان کی تحریر کی سلاست، گہرائی اور وضاحت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کی نثر میں سادگی کے ساتھ ساتھ فکری پختگی ایسی ہے کہ عام قاری بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور خاص بھی متاثر۔

پروفیسر ضیا صدیقی صحافت سے بھی گہری وابستگی رکھتے ہیں ۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جرنل “دانش” کے مدیر، “فکر و نظر” کی ایڈیٹوریل بورڈ کے رکن، اورنگ آباد کے “اعتراف” کے سابق مدیر اعلیٰ، ہماچل پردیش کے “جدید فکر و فن” کی مجلس ادارت کے رکن اور نیویارک کےادبی سہ ماہی جریدے “ورثہ” کے ہندستان میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔

پروفیسر صدیقی شوقیہ شاعر ہیں۔وہ نام و نمود کے لئے نہیں بلکہ دل بستگی کے لئے شعر کہتے ہیں۔ ان کی شاعری میں فکر کی گہرائی ہے۔

اشارہ کرکے اسے بزم غیر میں اکثر

ہم اس کے روئے حسیں کا عتاب دیکھتے ہیں

حیات شوق میں جب اس سے وصل ہو نہ سکا

بالآخر اپنی ہی قسمت خراب دیکھتے ہیں

ان کی شاعری میں روایتی عشق کی بجائے انسانی اقدار، حب الوطنی، خاکساری اور ہمدردی کے جزبات غالب ہیں۔

ہم اپنے لہجے کو بے آبرو نہیں کرتے

اسی لیے تو بہت گفتگو نہیں کرتے

۔۔۔۔۔۔

یہاں پہ سادہ مزاجی سے کچھ نہیں ملتا

تم اپنی بات کو کہنے کا اک ہنر رکھنا

۔۔۔۔۔۔

ذہن و دل میں فکر و فن کا اک جہاں رکھتا ہوں میں

عام لہجوں سے الگ طرز بیان رکھتا ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔

اک نشیمن تک نہیں محدود میرا آشیاں

جانے کتنوں کے دلوں میں آشیاں رکھتا ہوں میں

۔۔۔۔۔۔

تصدیق کر رہا ہے وہ اپنے گناہ کی

لیکن امان میں ہے وہ عالم پناہ کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کرکے تحقیر بزرگوں کی نئی نسل کے لوگ

اپنے اقدار کو پھر نام نیا دیتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زمین شعر میں خورشید اور قمر رکھنا

ادب کی راہ میں تم قوت سفر رکھنا

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...