
انہوں نے اپنے مکتوب میں اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ افطار اور سحری کے اوقات میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے خاص طور پر سحری کے دوران صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مزید برآں انہوں نے عید سے کم از کم دو ہفتے قبل اضافی ٹرینوں اور سرکاری بسوں کے چلانے کی تجویز دی، تاکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو سفر میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ادھیر رنجن چودھری نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جس ہفتے عید کی نماز ادا کی جائے، اس دوران اہم امتحانات مقرر نہ کیے جائیں تاکہ طلبہ کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔ روزہ رکھنے والے سرکاری ملازمین کی سہولت کے لیے دفتری اوقات میں عارضی تبدیلی کی تجویز بھی پیش کی گئی۔






