نیشنل ہیرالڈ، نوجیون اور قومی آواز کے مشترکہ ادبی پروگرام ’ادب نامہ‘ کی تازہ قسط معروف اردو شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کے نام رہی، جس میں ان کی زندگی، شخصیت، شعری اسلوب اور ادبی خدمات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ جس میں مہمان کے طور پر معروف شاعر، نقاد اور ناظمِ مشاعرہ معین شاداب شریک ہوئے۔
گفتگو کے دوران معین شاداب نے ڈاکٹر بشیر بدر کے خاندانی پس منظر، ابتدائی تعلیم اور ان عوامل پر روشنی ڈالی جنہوں نے ان کی شاعری کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بشیر بدر نے اردو غزل کو سادہ، رواں اور عام فہم زبان عطا کی، جس کے باعث ان کے اشعار عوام اور ادبی حلقوں دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔
قسط میں میرٹھ فسادات کے دوران ان کے گھر کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعے کا بھی ذکر ہوا، جس میں ان کی نایاب کتابیں، مسودے اور دیگر قیمتی یادگاریں ضائع ہو گئیں۔ معین شاداب کے مطابق اس سانحے کے باوجود بشیر بدر کی شاعری میں تلخی کے بجائے محبت، رواداری اور انسان دوستی کا پیغام نمایاں رہا۔
پروگرام میں ان کے متعدد معروف اشعار بھی پیش کیے گئے اور جدید اردو غزل میں ان کے منفرد مقام پر گفتگو کی گئی۔




