
اجے ماکن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ سفر طویل اور صبر آزما تھا، لیکن جب محنت کو اعلیٰ ترین سطح پر تسلیم کیا جائے تو ہر جاگتی رات اور ہر قربانی بامعنی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’فخر‘ جیسے الفاظ بھی اس احساس کی مکمل ترجمانی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اس موقع پر جامعہ، اساتذہ اور ادارے کے تعلیمی ماحول کا بھی شکریہ ادا کیا۔
سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کے بعد سیاسی، تعلیمی اور قانونی حلقوں کی جانب سے اوجسوی ماکن کو مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔ بہت سے صارفین نے اس کامیابی کو نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا مثال قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کارنامہ سخت محنت اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔






