اتر پردیش میں گزشتہ دنوں 14 سالہ ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا تھا، جو اب سرخیوں میں ہے۔ اس اجتماعی عصمت دری معاملہ میں اتر پردیش پولیس کٹہرے میں کھڑی ہو گئی ہے، کیونکہ ملزمین میں ایک داروغہ بھی شامل ہے جو فرار بتایا جا رہا ہے۔ کانگریس نے اس معاملے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اتر پردیش کا جنگل راج۔ کانپور میں ایک 14 سال کی لڑکی گھر سے باہر نکلی، تبھی ایک اسکارپیو آئی اور لڑکی کو اندر کھینچ لیا گیا۔‘‘
اس پوسٹ میں کانگریس نے آگے لکھا ہے کہ ’’2 گھنٹے تک لڑکی سے اجتماعی عصمت دری کرنے کے بعد اسے پھینک دیا گیا۔ اس واقعہ میں اتر پردیش پولیس کا داروغہ شامل ہے، جو ابھی فرار ہے۔‘‘ فکر انگیز بات یہ ہے کہ اس معاملے میں متاثرہ کنبہ کی شکایت سننے سے پولیس افسران نے انکار کر دیا۔ اس معاملہ میں کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’جب متاثرہ کنبہ پولیس کے پاس شکایت کرنے پہنچا تو انھیں بھگا دیا گیا۔ سوشل میڈیا کا دباؤ بنا، تب جا کر اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کی گئی۔‘‘
اتر پردیش کی انتظامیہ اور پولیس محکمہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ’’یہی ہے اتر پردیش میں نظامِ قانون کا حال، جہاں محافظ ہی حیوان بن بیٹھے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’’اتر پردیش کی بی جے پی حکومت پوری طرح سے فیل ہے، اس کا جرم اور جرائم پیشوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔‘‘ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں سخت سے سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ کو انصاف دلایا جائے۔
اس معاملے میں کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانے پر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’خواتین کا احترام کرنے والے نریندر مودی اور ان کی حکومتوں کو (اس طرح کے واقعات پر) شرم آنی چاہیے۔‘‘ کانگریس نے ایک دیگر سوشل میڈیا پوسٹ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ایک پرانی تقریر پر مبنی ویڈیو ڈالی ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’’16 سال کی بچی زیورات لاد کر اسکوٹی پر رات کو 12 بجے بھی یوپی کی سڑکوں پر نکل سکتی ہے۔‘‘ اس ویڈیو کے ختم ہونے کے بعد ایک دیگر ویڈیو چلتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ 14 سالہ لڑکی کا اغوا کیا جاتا ہے اور داروغہ و اس کے ساتھیوں نے مل کر نابالغ بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔ کانگریس نے ان دونوں ویڈیوز کو سامنے رکھ کر بتایا ہے کہ اتر پردیش میں جنگل راج ہے اور نظامِ قانون پر برسراقتدار طبقہ کے ذریعہ محض فرضی ڈینگیں ہانکی جا رہی ہیں۔




































