
اُس روز گھیر جعفر خاں کے علاقے میں ایک تصویر بنا کر واپس لوٹ رہا تھا کہ گلی کے نکڑ پر غیر معمولی گہماگہمی نظر آئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایس آئی آر کے فارم تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ میز پر جھکے ہوئے چہروں کو تو میں دیکھ نہیں پایا، مگر ہاتھ میں کاغذات لیے تیزی سے اِدھر اُدھر دوڑتے لوگوں کے خاموش چہروں پر تناؤ اور سنجیدگی صاف جھلک رہی تھی۔ اِن دنوں شہر میں جگہ جگہ یہی منظر عام ہے۔ حکومت اپنی عوام کی ووٹ ڈالنے کی اہلیت کی گہری جانچ کر رہی ہے اور عوام محض ووٹر بنے رہنے کی جدوجہد سے آگے اپنے مستقبل کے بارے میں بھی سخت پریشان ہوتی جا رہی ہے۔
برسوں سے بریلی کے پرانے بس اڈے پر گھوم گھوم کر سرمے کے فائدے بتانے والے شاعر عثمان عارف کو ڈھونڈتے ہوئے جب کانشی رام کالونی میں اُن کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے باعث وہ کئی مہینوں سے بستر پر ہیں۔ میں اُن کی تکلیف اور علاج کے بارے میں پوچھ رہا تھا اور اُن کی فکر یہ تھی کہ پھوٹا دروازہ کی طرف والی پرانی ووٹر لسٹ کیسے حاصل کی جائے، کیونکہ بیس برس پہلے وہ وہیں رہا کرتے تھے۔






