
اس کارروائی میں مدارس کے ساتھ ہی کچھ نجی یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں جو جانچ کی زد میں آگئی ہیں۔ لکھنوکی انٹیگرل یونیورسٹی اس وقت جانچ کی زد میں آئی جب دہلی دھماکے کی تحقیقات کے دوران وہاں پڑھانے والے پروفیسر پرویز انصاری کا نام سامنے آیا۔ اس کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام پروفیسروں کی شناخت اور دستاویزات فراہم کرنے کے ساتھ ہی یونیورسٹی میں زیر تعلیم جموں و کشمیر کے طلباء کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔ ساتھ ہی غیر ملکی طلباء کی تعداد، کورسز اور ان کے کردار کی تفصیلات بھی محکمہ انٹیلی جنس کو فراہم کی جائیں۔






