
سپریم کورٹ کے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے ریاستی الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ آپ کس طرح قانونی دفعات کے خلاف فیصلہ لے سکتے ہیں؟ عدالت نے کہا کہ کمیشن کا رویہ نہ صرف قانون کے منافی ہے بلکہ اس نے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو بھی فراموش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیشن کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے اس پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
اصل معاملہ اس وقت شروع ہوا جب اتراکھنڈ میں پنچایتی انتخابات کے دوران کئی امیدواروں کے نام ایک سے زائد ووٹر لسٹوں میں پائے گئے۔ قانونی طور پر ایسا شخص انتخاب لڑنے کا اہل نہیں ہوتا لیکن الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے سے انکار کر دیا۔






